اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 281 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 281

۲۸۱ ا۔افسر جلسہ سالانہ خاں صاحب منشی برکت علی خاں صاحب۔۲۔کوارڈینیٹنگ آفیسر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ملک غلام فرید صاحب۔۳۔ناظم جلسہ سالانہ صوفی محمد ابراہیم صاحب۔۔۔شوری کی عظیم اہمیت " وشاورھم“ کے ارشاد کے الہی کے مطابق حضرت خلیفہ المسح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۱۹۲۲ء سے نمائندگان جماعت ہائے کی باقاعدہ مشاورت کا اہتمام فرمایا۔جس میں بعض سالوں میں جماعت شملہ اور مرکز کی نمائندگی کرنے کی خاں صاحب کو توفیق ملی۔اس کی عظیم اہمیت کے تعلق میں ۱۹۲۶ء کی شوری میں حضور نے فرمایا تھا: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی یہ خصوصیت بیان فرمائی ہے کہ وہ تمام امور باہمی مشورہ سے طے کیا کرتے ہیں۔سب سے پہلی سب کتاب قرآن ہی ہے جس نے توجہ دلائی ہے کہ ایمان اور اسلام کی شاخوں میں سے ایک شاخ مشورہ بھی ہے۔۔۔۔۔(گویا) بسا اوقات خدا تعالیٰ خاص لفظی الہام اور وحی کی بجائے اپنے ارادوں کو دوسروں کے ارادہ میں مخفی کر کے ظاہر کرتا ہے۔کیونکہ اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر مشورہ کرنا مومنوں کے ایمان کا جزو نہیں ہوسکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ کی یہاں تک تاکید فرمائی ہے کہ جس امر میں مشورہ نہیں ہوتا اس میں خدا تعالیٰ کی برکات نہیں ہوتیں۔آپ نے فرمایا۔دیکھو خدا اور اس کا رسول تمہارے مشورہ کا محتاج نہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے۔اس لئے وہ بھی محتاج نہیں۔مگر فرمایا مشورہ رحمت ہے۔اس لئے کہ رسول۔۔۔اوہ ہوتا ہے۔اگر رسول مشورہ نہ کرتا تو جب استبدادی زمانہ آتا لوگ کہتے ہیں رسول نے کبھی مشورہ نہیں لیا تھا۔ہم اس سنت پر عمل کریں گے۔