اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 274 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 274

۲۷۴ عارضی ہے۔تھوڑے دنوں کے بعد وہ اعزا بھی اس کے ساتھ آمیں گے۔وہ جانتا ہے کہ موت اس کے لئے اس دنیا سے بہتر گھر کا دروازہ کھولنے والی ہے۔اس لئے مومن کی جدائی میں بھی ایک خوشی ہوتی ہے۔جو دوسروں کی جدائی میں نہیں ہوتی۔دنیاوی جدائیوں اور صدموں پر بھی مومن خیال کرتا ہے کہ قرآن کہتا ہے وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ کہ مومن ایسے موقعہ پر صبر کرتا ہے۔کیونکہ خدا کا وعدہ ہے کہ اگر تم کسی چیز کی جدائی کے غم پر صبر کرو گے تو اس سے بہتر چیز ملے گی۔پس دنیا کی جدائی میں بھی ایک اور سامانِ راحت پیدا کیا جاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ صادق الوعد اور کون ہوسکتا ہے۔چونکہ خدا نے مومن کی کامیابی کے دروازے کھول رکھے ہوتے ہیں اس لئے وہ کسی بات سے گھبرا تا نہیں۔ہر رنج اور تکلیف کو اپنے لئے بہتر خیال کرتا ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آں سنج کرم بنهاده پس مومن کے لئے ہر تکلیف ایک ترقی کا پیش خیمہ ہوتی ہے است ( نوٹ ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی معیت میں تمام مجمع کا فوٹو لیا گیا۔نیز اسی الوداع کے سلسلہ میں ۵ مارچ کو خان صاحب کی اہلیہ محترمہ کو جو لجنہ اماء اللہ شملہ کی صدر ہیں۔احمدی مستورات شملہ و دہلی نے پُر تکلف پارٹی دی اور ایڈریس ایک نقر کی طشتری میں پیش کیا جس کا موصوفہ نے نہایت موزوں جواب دیا۔۲۹ توفیق حج بیت الله حضرت بھائی شیخ عبدالرحیم صاحب اور آپ کو ۱۹۳۴ء میں حج پر جانے کی توفیق ملی۔خاں صاحب بیان کرتے تھے کہ ان دنوں یہ مشہور تھا کہ شاہ ابن سعود جو قریب میں ہی