اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 268 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 268

۲۶۸ اس کی مثالیں ہیں ہے۔جہاں چار دوست اکٹھے ہوں وہاں کبھی نہ کبھی کشمکش ہو جانا ناممکن نہیں ہے۔مگر میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ پارٹی فیلنگ نہ ہو۔دھڑا بندی نہ ہو۔اور میں اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ اس کے فضل سے کامیاب ہوا۔گذشتہ دو تین سالوں میں بے شک بعض ناگوار واقعات پیش آئے۔مگر پارٹیاں نہیں بن سکیں۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔اس میں محض ہماری کوششیں ہی نہیں بلکہ زیادہ تر حصہ حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی توجہ اور دعا کا ہے۔اللہ تعالیٰ عرصہ دراز تک حضور کا سایہ ہمارے سروں پر رکھے۔اور حضور کی دینی اور دنیوی کوششوں میں جو وہ جماعت کی بہبودی کے لئے کر رہے ہیں برکت دے۔” برادران! میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے ہمیشہ میرے ساتھ مہربانی کا برتاؤ رکھا۔اور ان احباب کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔جنہوں نے اپنے قیمتی مشوروں سے میری رہنمائی کی۔اور جماعت کے جملہ کاموں میں بڑی خوش دلی تپاک سے میری امداد کی۔میرے عہدہ کا خاص طور پر احترام کیا۔بلکہ میں یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ بحیثیت سیکرٹری یا امیر جو میں نے فیصلہ کیا۔انہوں نے اسے بطور حکم مانا۔بلکہ بعض اوقات ان کی رائے کے خلاف بھی اگر کوئی امر طے ہوا تو انہوں نے خوشی سے قبول کیا۔برادران! عہدہ امارت چاہتا ہے کہ کسی کی بے جا طرفداری نہ کی جائے۔اور نہ کسی کے خلاف محض ضد اور عناد کی وجہ سے کینہ رکھا جائے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں تک ہوسکا میں نے جماعت کے معاملہ میں ذاتی اغراض کو نہیں آنے دیا۔اور ہمیشہ جماعت کے مفاد کو شیخ فضل کریم صاحب مرحوم بعد ازاں حیدر آباد دکن میں ڈپٹی اکا ؤنٹنٹ جنرل رہے۔صوفی فضل الہی صاحب کی بیعت ۱۹۰۶ء سے قبل کی تھی۔ریٹائر ہونے کے بعد سلسلہ کے تجارتی اداروں میں خدمات کرتے رہے۔۴ جنوری ۱۳ ء کو لاہور میں وفات پائی اور ربوہ میں دفن ہوئے۔