اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 267 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 267

۲۶۷ کرنے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ خلیفہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں ایسا ملا ہے۔جو ہرامر میں کمال رکھتا ہے۔محض عربی خوان نہیں۔بلکہ موجودہ علوم سے پوری واقفیت رکھتا ہے۔یہی نہیں کہ نمازیں پڑھا دیں اور امامت کرا چھوڑی۔بلکہ اصلاح اخلاق اور اصلاح تمدن کا بھی پورا خیال رکھتا ہے۔تبلیغ حق اور اعلائے کلمتہ اللہ کی جو تجاویز کیں۔کمال کر دیا۔اور سیاست میں دخل دیا تو دشمن بھی عش عش کر اُٹھے۔غرض ہر پہلو میں بے نظیر ہے۔جہاں تک ہو سکے۔اس کی قدر کرنی چاہیئے۔کوتا ہی کی تو پچھتائیں گے۔بعد میں آنے والے تمنا کریں گے۔کہ کاش ہمیں بھی ایسا خلیفہ ملتا۔” برادران ! میں نے جو اکثر کوشش کی ہے کہ امیر جماعت کا خاص طور پر احترام کیا جائے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اگر لوکل عہدیداروں کا احترام نہ کیا جائے تقر مرکزی عہدیداروں کی عزت بھی کم ہو جاتی ہے۔اور اس کے بعد خلیفہ اسیح کی تو قیر بھی اتنی نہیں رہتی۔چنانچہ دیکھ لو۔جن لوگوں نے جماعت کی پروا نہ کی۔وہ بالآخر مرکزی عہدیداروں پر نکتہ چینی پر آمادہ ہو گئے۔بلکہ حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات ستودہ صفات کو بھی نہ چھوڑا۔” برادران ! اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ اتنے لمبے عرصہ میں ہمارے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔اور ہماری جماعت اخلاص میں ممتاز رہی ہے۔انتظامی حالت ہماری نہایت اعلیٰ رہی ہے۔اور جن دوستوں کو یہاں سے الگ ہوکر دوسری جگہ جانا پڑا ہے۔انہوں نے اس امر کی شہادت دی ہے کہ ایسا انتظام بہت کم جماعتوں میں پایا جاتا ہے۔بلکہ انہوں نے خود جا کر جو کام کئے ان سے اعلیٰ تربیت کا ثبوت دیا۔جو انہیں اس جماعت میں رہ کر حاصل ہوئی۔شیخ فضل کریم صاحب مرحوم۔صوفی فضل الہی صاحب، چوہدری عبدالکریم صاحب اور منشی عبد الرحیم صاحب