اصحاب احمد (جلد 3) — Page 266
۲۶۶ السلام کا دعویٰ ثابت ہو گیا تو مکڈ بین کے سب الزامات غلط قرار پائے۔اور آپ کے وہ خلفاء بھی جن کے ہاتھ پر بعض پیشگوئیاں حضور کی پوری ہوئیں معصوم ٹھہرے۔یا د رکھو۔اس وقت دنیا میں ایک ہی خلافت حقہ ہے۔اس کے علاوہ کوئی اور دینی خلافت نہیں۔اس خلافت حقہ کی غیرت ایسی اللہ تعالیٰ کو ہے کہ باقی سب خلافتیں اس نے مٹا دیں۔ترکوں کی خلافت نہ رہی ، شاہ حسین کی خلافت جاتی رہی۔لوگوں نے پھر خلافت قائم کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔اور اب بھی اگر کوشش کریں گے تو یقیناً نا مراد رہیں گے۔مجھے غیر مبایعین کی خلافتوں پر جنسی آیا کرتی ہے۔نا سمجھوں نے مسیح موعود علیہ السلام کو کیا سمجھا کہ اس کی خلافت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ (میں) لے بیٹھے۔وہ نبی ہے۔اور نبی بھی ایسا کہ بروز محمد ہے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی اور کی خلافت چل سکی کہ تم حضور کے بروز کی خلافت کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہو۔اللہ تعالیٰ کی غیرت نے خلافت کے نام پر جو سلطنتیں اٹھیں ان کو تباہ کر دیا تو تمہاری کیا ہستی ہے؟ برادران ! میں نے یہ قصہ کیوں دہرایا ہے محض اس لئے کہ واقعات سے جو سبق ملتا ہے۔اُسے یاد رکھنا چاہیئے۔شیطان ہر وقت پیچھے لگا ہوا ہے۔قدم قدم پر ٹھوکر کا اندیشہ ہے۔ایسا نہ ہو کہ غافل دیکھ کر ہمیں مصیبت میں مبتلا کر دے۔برادران ! آپ نے اپنے ایڈریس میں یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ میں ہمیشہ اس امر کے لئے کوشاں رہا ہوں کہ ہمارا تعلق حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط ہو۔اگر نظر غور سے دیکھا جائے تو یہی دین و دنیا کی کامیابی کی کلید ہے۔نظام قومی ایک بڑی بابرکت ہے ہے۔اس لئے جس قدر محبت اور فرمانبرداری کا تعلق حضور سے بڑھایا جائے گا۔اسی قدر اس نظام میں استحکام پیدا ہوگا۔اور پھر میں نے یہ بھی ذہن نشین