اصحاب احمد (جلد 3) — Page 24
۲۴ دوسرے نے بھی کچھ روپے پیش کئے۔میں فقیر نے صرف تین روپے حضور کے ہاتھ پر پیش کرتے ہوئے مصافحہ کیا۔حضور نے ہم تینوں کو بعد دُعا اجازت فرمائی۔بس یہی میری آخری ملاقات حضور سے ۱۹۰۷ء میں ہوئی۔میں نے حضور کے مکان کی گلی میں واقع کھڑکی سے حضور کو اپنے ایک خادم سید مہدی حسین صاحب مہتم کتب سے اندر باتیں کرتے دیکھا۔جدید صداقت شعاری کی برکت سٹیشن سٹھا رجہ کی بات ہے کہ ایک رات ایک گاڑی گزرنے کے بعد آپ اور کانٹے والے وغیرہ سب سو گئے۔ڈاک گاڑی کو پینتیس منٹ باہر رُکنا پڑا۔آخر گارڈ نے سیکنڈ گارڈ بھجوایا۔اتنے میں آپ بیدار ہو گئے اور جلدی سے کانٹے والے کو بھجوایا۔دوسرے سٹیشن سے لائن کلیئر لیا۔آپ نے تاخیر والا وقت درج کیا اور ادھر گارڈ نے رپورٹ کر دی کہ اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کے سو جانے کی وجہ سے گاڑی کو تاخیر ہو گئی۔اور اسے جگانے کے لئے مجھے سیکنڈ گارڈ بھیجوانا پڑا۔آپ نے صبح ہی اس افسر کو درخواست بھجوادی که گذشته رات اپنی بیوی کی زچگی کی وجہ سے میں سونہیں سکا تھا۔اس لئے آج رات ڈیوٹی پر سو گیا۔یہ قصور در گذر فرمائیں۔میں شرمسار ہوں اصلاح کرلوں گا۔اور سزا سے بھی اصلاح ہی مقصود ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ بھی بندہ کے بہت سے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ایسی چٹھی بھجوانے پر آپ کو تریلی کی افواہ پہنچی۔آپ نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دُعا کے لئے تحریر کر دیا اور آپ سکھر پہنچے۔دفتر بند تھا۔ہیڈ وفات سید صاحب ۳۱۸/۴۱ مدفون قطعه صحابه بهشتی مقبره قادیان (الفضل ۴۱ (۲۹) بیعت ۱۸۹۳ ء - آپ ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے۔