اصحاب احمد (جلد 3) — Page 234
۲۳۴ والدہ مرحومہ کی بڑی خدمت کی۔والدہ مرحومہ نے مرتے وقت میری بیوی مرحومہ کو علاوہ اور باتوں کے یہ وصیت کی کہ میرا یہ زیور اور نقدی اس اس طرح تقسیم کر دینا اور ہر ہفتہ میری طرف سے کسی غریب کو کھانا کھلا دیا کرنا۔چنانچہ مرحومہ نے اس کی پوری تعمیل کی اور جب تک زندہ رہیں ہر ہفتہ ایک آدمی کا کھانا کسی نہ کسی غریب کو دیتی رہیں اور اگر کبھی کوئی ایسا آدمی نہ ملتا تو اندازہ کر کے اس کی نقدی غرباء میں تقسیم کر دیتیں۔"طبیعت بڑی مخیر واقع ہوئی تھی۔غرباء میں صدقہ وخیرات کے علاوہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چاول وغیرہ پکا کر غرباء کو کھلا دیتی تھیں جس کے لیئے ہر ماہ پیسے جمع کرتی رہتی تھیں اور رقم خاصی جمع ہوتی۔ہر بار ایسا کرتی تھیں۔چندہ با قاعدہ ادا کرتی تھیں۔البتہ ادائیگی کا طریق یہ تھا کہ مجھے کہہ رکھا تھا کہ میری طرف سے بھی دریافت کئے بغیر ہی ادا کر دیا کرو۔چنانچہ میں اپنے چندہ کے ساتھ ہی اس کا ہر قسم کا چندہ بھی ادا کر دیا کرتا تھا۔میری اجازت کے بغیر کہیں باہر نہیں جاتی تھی۔اور اگر کبھی جانا پڑ جائے تو مجھے بتا دیتی تھی۔زکوۃ با قاعدہ ہر سال زیور پر اور نقدی پر ادا کر دیتی تھی۔گھر کے عام استعمال کی چیزیں اگر کوئی مانگے تو خوشی سے دے دیتی تھی۔مگر خود لینا حتی الوسع پسند نہ کرتی تھی۔بلکہ اگر کسی چیز کی ضرورت پڑے تو خود خرید لیتی تھی۔نیز کبھی کسی کا کینہ دل میں نہ رکھتیں۔نہ کسی کی بدسلوکی کا بدلہ لینے کی کوشش کرتیں۔اگر کوئی بھتیجا یا بھائی گستاخی کرتا تو میں کہتا کہ میں اس سے پوچھوں گا۔تو جھٹ مجھے منع کر دیتیں اور کہتیں کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہی ہے وہ سب کے اعمال دیکھتا ہے۔غرض مرحومہ کے اخلاق حمیدہ اور عاداتِ حسنہ کہاں تک بیان کئے جائیں۔وہ ایسی نیک طینت اور فرشتہ خصلت بی بی تھیں کہ مجھے ان کی