اصحاب احمد (جلد 3) — Page 233
۲۳۳ کے دنوں میں سوائے ایک دو دفعہ صحت کے لئے دعا کرنے کے کوئی شکوہ وشکایت نہ کیا۔بس اتنا کہا کہ جو ہونا ہے وہ ہوکر رہے گا۔ان کی بیماری میں ایک دو دفعہ میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔تو دیکھ کر کہنے لگیں کہ کیوں روتے ہو۔کیا یہ ہماری خواہش نہیں کہ میں آپ سے پہلے وفات پاؤں۔غرض عام حالات میں ان کی سب عادات قابل تو تحسین تھیں۔اور جو عورت بھی احمدی یا غیر احمدی اُن سے ملیں ان کے اخلاق کی گرویدہ ہو گئیں۔ان کے استغناء اور سیر چشمی کا یہ عالم تھا کہ باوجود یکہ میں ساری تنخواہ ان کے حوالے کر دیتا تھا۔اور کہہ دیتا تھا کہ مقررہ جیب خرچ کے علاوہ جس طرح چاہو خرچ کرو۔مجھے کوئی اعترض نہ ہوگا۔مگر وہ میری اجازت کے بغیر ایک پیسہ بھی اس میں سے خرچ کرنا گناہ سمجھتی تھیں۔اور کہتیں کہ جو اپنے ہاتھ سے دو گے وہی خرچ کروں گی۔بڑی مہمان نواز تھیں۔خود کسی کے ہاں جائیں تو زیادہ خاطر تواضع پسند نہ کرتیں لیکن اگر کوئی ہمارے گھر میں آتا تو حتی الوسع مہمان نوازی کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتیں۔جن دنوں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب امرت سر کے ہسپتال میں تعینات تھے۔ان دنوں والدہ مرحومہ نے وہاں جا کر آنکھیں بنوائیں۔حضرت میر صاحب مرحوم نے بڑی شفقت سے اپنے زیر اہتمام انگریز سول سرجن صاحب سے آنکھیں بنوادیں۔وہ سول سرجن صاحب آنکھیں بنانے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔چاروں طرف ان کی شہرت تھی۔اور دور دور سے سینکڑوں لوگ آنکھیں بنوانے کے لئے آتے تھے۔والدہ مرحومہ کو حضرت میر صاحب نے بجائے ہسپتال میں جگہ دلوانے کے اپنے گھر میں رکھا۔جہاں ہم دواڑھائی ہفتہ رہے اور جہاں حضرت میر صاحب مرحوم کی بڑی بیوی اور میری بیوی مرحومہ نے