اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 232 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 232

۲۳۲ شعائر اللہ کا بہت احترام کرتی تھیں مگر دل کی قدر تا از حد درجہ کمزور واقعہ ہوئی تھیں۔اس لئے بہشتی مقبرہ کی زیارت کے لئے بہت کم جاتیں۔اور جب کبھی حوصلہ کر کے جاتیں۔تو ایک دو عورتیں ساتھ لے کر جاتیں۔اور بہت لمبی لمبی دعائیں کرتیں۔بلکہ اسی کمزور کی دل کی وجہ سے میرے ساتھ حج کو نہ جاسکیں۔کیونکہ حاجیوں کو طاعون و ہیضہ کے لئے دو ٹیکے کرانے پڑتے تھے۔اور وہ ٹیکہ کو برداشت نہ کر سکتی تھیں۔محلہ کی عورتوں نے سمجھایا کہ خاوند ساتھ ہے۔اس سے بڑھ کر اور کون سا اچھا ساتھ مل سکتا ہے۔خوش قسمتی کی بات ہے ساتھ چلی جاؤ۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم نے ایک دو دفعہ فرمایا کہ میں ٹیکہ گھر آکر کر جاؤں گا۔اور ایسی طرز سے کروں گا کہ ذرہ بھی تکلیف نہ ہوگی۔اتفاقاً ان دنوں چیچک کا ٹیکہ ہو رہا تھا۔کئی خوردسال بچے سامنے آکر دکھاتے کہ دیکھو ہم نے ٹیکہ کرایا ہے۔اور کوئی ایسی تکلیف نہیں ہوئی۔مگر ان کی طبیعت نہ مانی۔اور تنگ آکر کہنے لگیں کہ مجھے بار بار کیوں گناہ گار کرتے ہو۔میں ٹیکہ نہیں کراسکتی بلکہ سمندر کا نظارہ بھی برداشت نہیں کرسکتی۔اندریں حالات مجھے مجبوراً اکیلے ہی حج کو جانا پڑا۔مگر میں نے ان کی طرف سے حج بدل کرا دیا۔میں ۱۸ فروری ۱۹۳۴ء کو جا کر ۱۸ اپریل کو واپس آیا۔اس دو ماہ کے عرصہ میں وہ مسلسل اور زیادہ شدت سے مصروف عبادت رہیں۔اور ایک دن بھی گھر سے باہر نکلنا گوارا نہ کیا۔خاندان حضرت مسیح موعود کی بہت تعظیم و تکریم کرتی تھیں۔حضرت ام المومنین مدظلہ العالیٰ کے ساتھ از حد عقیدت تھی اور کبھی بغیر نذرانہ کے ان سے ملنا پسند نہ کرتی تھیں۔حضرت ام المومنین خود ان کے ملنے کے لئے ہمارے ہاں تشریف لے آتی تھیں تو اس وقت بھی نذرانہ ضرور پیش کر دیتی تھیں۔آخری ایام میں رضائے مولیٰ پر راضی معلوم ہوتی تھیں۔کیونکہ بیماری