اصحاب احمد (جلد 3) — Page 225
۲۲۵ آپ کی رفیقہ حیات آپ کی اہلیہ محترمہ کے جدی اقارب احمدیت سے محروم رہے اور خاں صاحب محترم کے تعلق سے مرحومہ احمدیت سے وابستہ ہوئیں اور انہوں نے اخلاص میں بہت ترقی کی۔آپ لجنہ اماء اللہ شملہ کی صدر تھیں۔۱۵ آپ کے حالات ذیل میں درج ہیں جن سے ظاہر ہے کہ آپ ایک مخلص صحابیہ تھیں۔اور دین العجائز پر قائم تھیں۔اور اخلاق عالیہ سے بہرہ ور تھیں۔خانصاحب بیان کرتے ہیں: میری اہلیہ عزیزہ بیگم منشی مولا بخش صاحب محافظ دفتر ضلع کچہری ہوشیار پور کی دختر نیک اختر تھیں میں نے ۱۹۰۱ء میں بیعت کی۔اس کے بعد جلدی ہی مرحومہ نے بھی محض اس وجہ سے بیعت کر لی کہ میرا خاوند نیک ہے۔جب اس نے بیعت کر لی ہے تو مجھے ان سے الگ رہنا مناسب نہیں۔وہ زیادہ لکھی پڑھی نہ تھیں اور نہ زیادہ استدلال کر سکتی تھیں۔لیکن اگر حقیقتا دیکھا جائے تو جس دلیل کو اولاً انہوں نے سامنے رکھ کر بیعت کی وہ بھی بڑے پایہ کی دلیل ہے۔چنانچہ بیعت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو اور دلائل بھی صداقت سلسلہ کے سمجھا دیئے۔۱۹۰۶ ء میں میں ایک دفعہ محترمہ والدہ صاحبہ۔اہلیہ صاحب اور اکلوتی بچی بعمر قریباً چھ سال کو لے کر قادیان گیا۔اور بارہ تیرہ روز وہاں قیام رہا۔ہمیں رہنے کے لئے جو مکان ملا وہ شہر میں تھا۔اور پختہ دومنزلہ مکان تھا جس میں کبھی پریس بھی ہوتا تھا۔ہر دو نے وہاں دستی بیعت کی۔میرے گھر سے روزانہ حضور کے گھر جاتیں۔اور اندرونِ خانہ کی بہت سی باتیں مجھے بتا تیں۔افسوس کہ ان کو محفوظ نہ کر سکا۔جہاں تک یاد ہے بتاتی تھیں کہ حضرت صاحب عموماً گھر میں مطالعہ یا تحریر میں مصروف رہتے تھے۔اکثر ایسا ہوتا تھا کہ آپ کمرے کے دو تین طاقچوں میں دوا تیں رکھ لیکن یہ معلوم نہیں کہ کتنا عرصہ وہ صدر رہیں۔