اصحاب احمد (جلد 3) — Page 212
۲۱۲ آٹے میں نمک بھی نہیں۔تاہم اگر منکرین خلافت کے اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی ان کا غلطی پر ہونا ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے شروع میں لکھا تھا کہ حضرت میاں صاحب کے ساتھ بہت تھوڑے لوگ ہیں اور قریباً صرف ۱۲ را حصہ جماعت نے ان کی بیعت کی ہے۔مگر گذشتہ جلسوں نے جو انہی تاریخوں میں لاہور اور قادیان میں بالمتقابل ہوئے بتا دیا کہ کثرت حضرت میاں صاحب کے ساتھ ہے۔گو یہ اصول غلط ہے مگر چونکہ منکرین اسے تسلیم کرتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس راہ سے بھی ان پر حجت پوری کر دی۔یہ معاملہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے معاملہ سے مشابہ ہے۔اس نے اوّل تو مباہلہ سے انکار کیا اور کہا کہ بد اور شریر کو لمبی مہلت ملتی ہے۔مگر جب اللہ تعالیٰ نے اس کے معیار کے مطابق اس پر اتمام محبت کی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔تو جھٹ پھر گیا۔اور حضور مغفور کے وصال کو اپنی صداقت کی دلیل ٹھہرانے لگا۔قرآن شریف میں وارد ہے کہ مومنوں پر شیطان کا غلبہ نہیں ہوگا۔چنانچہ ملاحظہ ہوں آیات ذیل: إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ۔( پاره ۱۴ رکوع ۳) إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَنِّ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَى رَبِّهِمُ يَتَوَكَّلُونَ۔(پاره ۱۴ رکوع ۱۹) ان عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنٌ وَ كَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً۔(پاره ۱۵ رکوع ۷ ) مگر ایک دل میں جس قدر شیطان کا دخل کم ہوتا ہے اسی قدر فرشتوں کا نزول زیادہ ہوتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزِّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ (۲۴/۱۸)