اصحاب احمد (جلد 3) — Page 182
۱۸۲ خیالات اور دلائل کا علم ہو گیا۔ان دنوں ہمارے درمیان زیادہ تر وفات مسیح کے مسئلہ پر گفتگو ہوا کرتی تھی۔اور احمدیوں کے ساتھ عموماً بات چیت میں ہی کیا کرتا تھا۔عربی تو مجھے آتی نہیں تھی۔ہاں قرآن کریم ناظرہ پڑھ لیتا تھا۔احمدی دوست عموماً آیات قرآنیہ کا حوالہ دیتے تھے۔گو غیر احمدی دوست میری خوب پیٹھ ٹھونکتے۔اور کہا کرتے تھے کہ تم احمدیوں کی خوب خبر لیتے ہو۔مگر میں خود سمجھتا تھا کہ میرے دلائل کمزور ہیں۔میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ قرآن کریم کا ترجمہ تو اب سیکھنا مشکل ہوگا۔اس میں زیادہ دیر لگے گی۔ہاں عربی دانوں نے جو تر جمہ قرآن کریم کا کیا ہوا ہے۔اس پر ایک دفعہ ہم عبور کرلیں تو پھر تبلیغی گفتگو کا لطف آئے گا۔ورنہ اب کوئی لطف نہیں۔احمدی دوست آیات قرآنیہ پیش کرتے ہیں۔لیکن ہم ان کے معنوں سے بھی واقف نہیں۔چنانچہ میں نے شروع سے آخر تک قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا۔اور میں سچ کہتا ہوں کہ وہ احمدی دوست تو وفات مسیح پر دس پندرہ آیات سے استدلال کرتے تھے۔لیکن مجھے یوں محسوس ہوا کہ قرآن کریم میں کئی اور ایسی آیات ہیں جن سے وفات مسیح پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔مثلاً میں نے غور کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر قرآن کریم میں دوسرے فوت شدہ انبیاء کے ساتھ کیا گیا ہے۔اور کسی جگہ بھی وہ منفرد نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی ان فوت شدہ انبیاء کے زمرہ میں ہیں۔ورنہ اگر وہ دوبارہ آنے والے ہوتے تو آپ کا قرآن کریم میں امتیازی طور پر ذکر ہوتا۔بہر حال میری توجہ احمدیت کی طرف پھر گئی۔انہی دنوں میں نے پیر مہر علی شاہ صاحب کے بعض اشتہار دیکھے۔چنانچہ ان کی طرف سے ایک بہت بڑا اشتہار شائع ہوا۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے حوالہ جات پیش کر کے غالباً ۲۴ با تیں لکھی گئی