اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 173 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 173

۱۷۳ حضرت مولانا راجیکی صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور آپ تشریف لے آئے۔بیماری کی کیفیت کو سنا اور پھر اللہ تعالیٰ کی صفات اور قدرتوں کے جلوے اور قبولیت دعا کے مضمون پر آپ نے تقریر فرمائی اور اسی دوران نہایت بلند اور پُر شوکت آواز سے اللہ اکبر" کا نعرہ بلند کیا اور اس وقت آپ بے حس وحرکت جھکے ہوئے تھے۔پگڑی چار پائی پر اور سوٹی زمین پر گر پڑی تھی۔چند لمحوں کے بعد جب یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ نے فرمایا۔میں نے کشف میں دیکھا ہے کہ فرشتے نور کے پانی کی مشکیں بھر کر آپ کو غسل دے رہے ہیں اس کی دو ہی تعبیریں ہیں۔اور دونوں مبارک یا تو مرض دھل کر جسم سے نکل جائے گا۔اور صحت ہو جائے گی۔یا پھر انجام بخیر ہو جائے گا۔میرے والد محترم فرماتے تھے کہ انہی دنوں جب مکرم میاں غلام محمد صاحب اختر میری عیادت کے لئے آئے تو میں نے چشم پر آب ہو کر کہا کہ اگر آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں حاضر ہوں تو میری طرف سے بعد سلام مسنون عرض کریں کہ وہ کہتا ہے۔بادشاہوں کے ہاں جب کبھی شادی وغیرہ کی خوشی کے ایام آتے ہیں تو وہ قیدیوں کو رہا کیا کرتے ہیں (ان دنوں حضرت مصلح موعودؓ کے خاندان میں کوئی خوشی کا موقعہ تھا) حضور کے خاندان میں خوشی کا موقع آیا ہے۔میں مرض کا اسیر ہوں۔خدا کے حضور دعا کر کے مجھے مرض سے آزاد کرائیں۔مجھے میاں غلام محمد صاحب اختر نے بعد میں بتایا کہ جب میں نے یہ پیغام پہنچایا تو حضرت اقدس کے چہرے سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ نے سُن کر دعا کی ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے۔ایک روز مجھے خیال آیا کہ خود پیشاب کر کے دیکھوں۔میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔جب میں نے دیکھا کہ خود بخود پیشاب آگیا۔اور پھر کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوئی۔میرے دل پر غالب اثر یہ ہے کہ یہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی قبولیت دعا کا نشان ہے