اصحاب احمد (جلد 3) — Page 134
۱۳۴ سنگھ کیساتھ دفتر سے گھر کی طرف آرہا تھا۔ان کے ساتھ اکثر مذہبی گفتگو رہتی تھی۔انہوں نے پوچھا کیا آپ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے۔میں نے کہا کہ آپ سوال کی تصیح کر کے یہ پوچھیں کہ آپ کا میرے مقابل پر اللہ تعالیٰ سے زیادہ تعلق ہے۔انہوں نے کہا یونہی سہی۔اثبات میں جواب دینے پر انہوں نے ثبوت طلب کیا۔میں نے کہا یہ کہ آپ میرے ہاتھ سے ڈسچارج ہوں گے۔یہ بات تو میرے منہ سے نکل گئی اور میں خود حیرت میں ڈوب گیا کہ یہ کیا بات میرے منہ سے نکلی تھی۔ادھر یہ سکھ بھی حیران تھا کہ یہ کیا جواب ملا ہے۔اللہ تعالیٰ کی شان تھوڑے عرصہ میں ان کی آنکھوں میں تیز گرے پڑ گئے۔اور وہ کئی ماہ تک شفا خانہ میں داخل رہے۔وہ صحت یاب ہوئے تو میں رخصت لے کر قادیان آگیا۔اور وہ کور کے ساتھ راولپنڈی آگئے میں ابھی رخصت پر تھا کہ بشمول بر چهار ہندوستانی سرداران یعنی افسریه سازش کی گئی کہ مجھے ہری سنگھ کے ماتحت کر دیا جائے تو میں تنگ آکر ملازمت ترک کر دوں گا۔رخصت سے واپسی پر مجھے اس بات کا علم ہوا میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور بڑے الحاح سے دعا کی کہ میں گنہگار ہوں۔میرے گناہ معاف فرما کر میری عزت رکھیو۔میں گھر سے دفتر کی طرف جارہا تھا تو یکے بعد دیگرے چاروں ہندوستانی سرداروں سے سامنا ہوا۔اور ہر ایک نے معذرت کر کے شرارت کسی دوسرے کی بتائی اور بتایا کہ اس میں میں قصور وار نہیں۔دفتر میں پہنچا تو بابو ہری سنگھ نے کہا کہ افسر آپ پر مہربان ہے۔اس کو کہیں کہ وہ مجھے ہسپتال لے جاکر طبعی طور پر مجھے نا قابل ملازمت قرار دلا دے تا کہ مجھے پنشن مل جائے۔چنانچہ میرے کہنے پر افسر نے ایسا ہی کیا۔جب ان کی ملازمت سے فراغت اور وظیفہ (پنشن) کے کاغذات بن گئے اور میں ان کے ساتھ گھر کو آرہا تھا تو اچانک بنوں والی بات مجھے یاد آگئی۔اور میں نے ان کو کہا کہ لو بابو صاحب! آج وہ بات پوری ہو گئی کہ آپ میرے ہاتھ سے ڈسچارج ہوں گے اور یہ اسلام کی سچائی کا ثبوت ہے وہ خاموش رہے۔اے خدا قربان احسانت شوم کان احسان بقربانت شوم (۸): ۱۹۱۸ء میجر چینی کے بعد کپتان پارس آگئے۔اور ہمیں ماری فیلڈ فورس ( ہرنائی سے ڈگی ) جانا پڑا۔اس افسر نے مخفی کتاب میں تحریر کیا کہا اگر کبھی بابو فضل احمد اور