اصحاب احمد (جلد 3) — Page 11
دیانتداری سے پڑھاتے تھے۔اور آپ سے محبت بھی رکھتے تھے۔ایک دفعہ انگریز ہیڈ ماسٹر آپ کی جماعت میں آئے اور پوچھا کہ اس انگریزی نظم میں فلاں لفظ کے متعلق کیا کوئی طالب علم بتا سکتا ہے کہ یہ کونسی قسم کا کلمہ (Part of speech) ہے۔آپ کی طرف ماسٹر صاحب نے اشارہ کیا تو ہیڈ ماسٹر صاحب آپ کو جماعت دہم کی طرف لے کر چل دیئے اور وہاں درست جواب پا کر آپ کو تھپکی دی اور ان طلباء کو کہا کہ دیکھو اس بچہ نے جو چھوٹی کلاس کا ہے صحیح جواب دیا ہے۔حساب اور اقلیدس کے استاد ماسٹر ناتھو رام تبدیل ہو گئے اور ان کی جگہ ماسٹر مرلید ھر گورداسپور آ گئے۔جن سے آپ نے یہ مضامین آٹھویں سے دسویں تک پڑھے۔ایک دفعہ ماسٹر ناتھو رام گورداسپور آئے تو کلاس دیکھنے آگئے۔اقلیدس کا ایک سوال حل کرتے ہوئے ماسٹر مُر لیدھر رُک گئے اور حل نہ کر سکے اس نوجوان طالب علم کو حل سوجھ گیا اور اس نے فوراً بورڈ پر اسے حل کر دیا۔ماسٹر ناتھو رام نے ان کی کمال ذہانت کا ذکر کرتے ہوئے ساتھ ہی شکایت بھی کر دی کہ غیر استاد کے سامنے اس طرح نہ کرنا چاہیئے تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہا کہ فقیر علی آخر انہی کا شاگرد ہے۔اس لئے کوئی امر خلاف ادب نہیں ہوا۔اقلیدس کے معموں میں بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے کہ استاد بھی چکر میں پڑ جاتا ہے۔ہیڈ ماسٹر صاحب لدھیانہ تبدیل ہو گئے اور انہوں نے پُر زور تحریک کی کہ یہ ذہین طالب علم ان کے ساتھ لدھیانہ چلا جائے۔اور وہ اس کے اخراجات کے ذمہ دار ہوں گے۔میٹرک کے امتحان سے قبل ڈیڑھ ماہ کی تعطیلات ہوئیں۔اس وقت والدین نے نہایت شوق سے آپ کی شادی رچادی۔کتب نصاب تو آپ پہلے ہی بمقام او جلہ (جو گورداسپور شہر سے ایک دو میل کے فاصلہ پر ہے) چھوڑ آئے تھے۔جہاں آپ نے اپنے چامسمی منگو کے ہاں ۱۸۹۴ء سے ۱۸۹۹ء تک قیام رکھا تھا۔جب امرتسر جا کر امتحان دینے کے لئے طلباء گورداسپور سے ریز روڈ بہ میں روانہ ہوئے تو آپ چھینہ ریلوے سٹیشن سے سوار ہوئے۔اس وقت کی دیہاتی زندگی اور عام ناواقفیت کی وجہ سے ایک لاڈلے اور اکلوتے بیٹے کا سفر امرتسر بھی عجوبہ متصور ہوتا تھا۔چنانچہ والدہ کے ہمراہ گاؤں کی مستورات بابو صاحب تحریر کرتے ہیں کہ یہ ماسٹر مرلید ھر سرمہ چشم آریہ کے مباحثہ والے تھے اور میں نے ان کی تقاریر سنیں۔ایک دفعہ انہوں نے کلاس میں غلط دعویٰ کیا تھا کہ لیکھرام کا قاتل کشمیر میں پکڑا گیا ہے۔