اصحاب احمد (جلد 3) — Page 111
(۴): ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کو انصار اللہ کے ٹریکٹوں سے بڑی نفرت تھی اور وہ پسند نہ کرتے تھے کہ میں بھی انصار اللہ میں شامل رہوں۔اس غرض کے لئے انہوں نے بعض باتیں بیان کیں۔تا کہ میرے ایمان کو متزلزل کیا جائے۔میں نے ان کے بیان کردہ تمام اعتراضات بطور سوالات حضرت خلیفہ ثانی کی خدمت میں لکھ کر جواب کے لئے عرض کیا۔تو آپ نے جواب میں ایک مفصل خط لکھا۔ان ایام میں ڈاکٹر بشارت احمد صاحب سے بھی مجھے بڑی محبت تھی اور عام طور پر راولپنڈی میں ہمیں یک جان و دو قالب سے تعبیر کیا جاتا تھا۔جب حضرت میاں صاحب کا خط میں نے ان کو سنایا تو انہوں نے گھبرا کر کہا بابو صاحب آپ نے ایک عظیم الشان آدمی (یعنی خلیفہ ثانی کا دل دکھا دیا ہے۔میں نے کہا کہ مجھے تو اپنے ایمان سے غرض ہے اور جو اس کو بچائے اور اس میں ترقی کا موجب ہو وہ مجھے پیارا ہے۔اور چونکہ آپ بھی میرے محبوب ہیں اور مرزا محمود احمد صاحب بھی۔مگر آپ دونوں میں اختلاف ہے اس لئے میں دوکشتیوں میں پاؤں نہیں رکھ سکتا۔آج سے آپ کو مرزا محمود احمد صاحب پر قربان کرتا ہوں۔یہ کہتے ہوئے میں بائیسکل پر سوار ہو کر چلا گیا۔اس وقت سے ڈاکٹر صاحب کے دل میں میری نسبت بغض پیدا ہو گیا۔دراصل میرے لئے یہ کانپور والا جھگڑا خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک خاص نعمت بن گیا کیونکہ اگر ڈاکٹر صاحب موصوف سے میرے تعلقات قائم رہتے تو وہ میرے لئے بدترین ساتھی بنتے۔اور مجھے گمراہ کر دیتے۔اور پیغامیوں میں ملا لیتے۔(۵) : مارچ ۱۹۱۴ء میں ہمیں اطلاعات قادیان سے ملنے لگیں کہ حضرت خلیفہ اول کی طبیعت علیل ہے اور ایسا اتفاق ہوا کہ غالباً ۱۳ مارچ کو مجھے دفتر میں جب تاریا خط ملا تو وہ تاریخ ہمارے دفتر کے معائنہ ہونے کی تھی۔اور میرے لئے رخصت حاصل کرنا قریب ناممکن تھا۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کو تو مولوی علی صاحب کی طرف سے خاص اطلاع ملتی تھی۔وہ مولوی علی احمد صاحب حقانی کو ساتھ لے کر قادیان چلے گئے اور وہاں ان کو مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی پر ہی رکھا۔اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے رفقاء سے ملنے ہی نہ دیا گیا۔بقیہ حاشیہ : نہیں کی اور اس اعتماد کے باعث آپس کی خط و کتابت بھی تھی۔اس موقعہ پر قلت وقت کے باعث دریافت نہ کیا جاسکا ہوگا۔