اصحاب احمد (جلد 3) — Page 109
1+9 (۲): غالباً ۱۹۱۲ء میں میں نے آپ سے قرآن مجید پڑھنے کی خواہش کی۔لیکن آپ کی عدیم الفرصتی مانع ہوئی۔اور آپ نے اس کا غذر کیا۔لیکن آپ کی توجہ سے مجھے قرآن مجید کی محبت مل گئی۔(۳): جولائی تا ستمبر ۱۹۱۳ء کو ہ مری میں میرا قیام رہا۔انہی ایام میں مولوی محمد علی صاحب ایم اے۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اور صفدر جنگ صاحب بھی وہاں مقیم تھے۔مولوی صاحب تفسیر القرآن انگریزی کا کام کرتے تھے۔اور نماز مغرب کبھی مجھ سیکرٹری جماعت مری کے مکان پر ورنہ دیگر نمازوں کی طرح اکثر مولوی صاحب کے مکان پر ہوتی تھی۔ایک دفعہ مولوی صاحب نے مجھے آٹھ یا دس روپے دیئے اور کہا کہ یہ چندہ ہے رسید کاٹ دیں اور پوچھنے پر بھی چندہ دہندہ کا نام نہ بتایا۔بلکہ کہا کہ نا معلوم اسم لکھ کر رسید کاٹ دیں۔چنانچہ اسی ہدایت کے ساتھ مولوی صاحب مجھے چندہ دیتے رہتے تھے۔اور میں حیران ہوتا تھا کہ یہ نامعلوم الاسم شخص بڑا ہی مخیر ہے جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتا۔ایک شب مولوی محمد علی صاحب کوہ مری سے سنی بنک روانہ ہوئے ان کے ساتھ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب تھے۔اور خاکسار بھی۔غالباً ایک اور شخص بھی تھا سنی بنک میں شیخ حسن محمد صاحب ( مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈوکیٹ لاہور سابق امیر جماعت و حج مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے نانا) کی کوٹھی میں سے حافظ فضل احمد صاحب گجراتی باہر آئے اور انہوں نے کم و بیش بارہ صد روپے دیئے جو مولوی صاحب نے لے کر اپنے نام پر سیونگ بینک پوسٹ آفس مری میں جمع کرا دیئے۔کہا گیا تھا کہ یہ روپیہ رشوت کا تھا۔جو اس نا معلوم الاسم صاحب کا ہے جن کی رقم مجھے چندہ میں ملا کرتی تھی۔کوہ مری پر مجھے مولوی محمد علی صاحب کی خدمت کا کافی موقعہ ملتا تھا۔مولوی صاحب مجھے سلسلہ کا سرگرم کارکن دیکھ کر چاہتے تھے کہ مجھے اپنا ہم خیال بنالیں۔مگر چونکہ مجھے حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے بھی بڑی محبت تھی اس لئے کبھی کبھی جوش کے ساتھ میری زبان سے ایسے الفاظ نکل جاتے تھے جن سے حضور کی محبت کا پتہ مولوی صاحب کو بھی لگ جاتا۔انہی ایام میں بقیہ حاشیہ: حضرت صاحبزادہ صاحب روانہ ہوئے تھے۔اور حج میں آپکے ساتھ نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب اور عبد الحئی صاحب بھی شامل تھے۔