اصحاب احمد (جلد 3) — Page 104
۱۰۴ کے دل میں وہ عزت اور عظمت نہ رہے گی۔اور ایک منافقانہ کیفیت دل کی ہو جائے گی۔دوسری طرف یہ معاملہ ہے کہ ایک غریب شخص حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لاتا اور بیعت کرتا ہے۔حضور کی دعاؤں کی برکت سے اعلیٰ سے اعلیٰ عہدہ پر پہنچتا ہے۔تو وہ حضور کے احسان کو دیکھ کر قربان ہو جاتا ہے اور کہتا ہے۔میں غریب اور نادار تھا۔حضور کی غلامی سے کیا سے کیا بن گیا۔اور وہ اخلاص میں ترقی کر جاتا ہے۔پھر فرمایا کہ یہ حکمت الہی ہے جو بڑے بڑے لوگ سابقون میں نہیں آتے۔غرباء ہی آتے ہیں۔اگر پہلے بادشاہ آئیں تو وہ منافق بن جائیں گے۔مگر غرباء ایمان لا کر بادشاہ بن جاتے ہیں اور ایمان میں ترقی بھی کر جاتے ہیں۔(مفہوم) (۲۲) حساباً يسيراً كى لطيف تفسیر ایک روز حکیم غلام محمد صاحب امرتسری نے عرض کیا کہ قرآن شریف میں جو حساباً يسيراً آتا ہے اس کی تفسیر کیا ہے۔سمجھائیں کہ وہ کس طرح ہوگا فرمایا۔اچھا۔کچھ دن گذر گئے اور اس اثناء میں جو رقم حضور کے پاس نذرانہ وغیرہ کی آئی۔آپ حکیم صاحہ موصوف کو اپنے پاس رکھنے کی ہدایت کرتے اور جو خرچ آپ کی طرف سے ہوتا اُٹھی کے ہاتھ سے کرواتے۔ایک دن حضور نے ان سے کہا کہ نذرانے وغیرہ کی جو رقم آپ کے پاس ہے اس کے حساب لکھ کر لائیں کہ کیا کچھ آیا۔کیا خرچ ہوا اور باقی کیا ہے۔چونکہ موصوف کو یہ خیال اور وہم بھی نہ تھا کہ آپ حساب طلب فرمائیں گے۔اس لئے وہ نذرانہ وغیرہ کی رقم لے لیتے اور مطابق حکم خرچ کرتے رہے تھے۔حساب مانگنے پر بہت گھبرائے اور لگے حساب لکھنے۔مگر حساب لکھا ہوا تو تھا نہیں۔محض یاد کی بناء پر کچھ لکھا۔کچھ یاد نہ آیا۔دیر ہوگئی۔آپ بار بار حساب طلب فرماتے۔ایک روز جب فرمایا کہ جلدی حساب لاؤ۔تو وہی جو تھوڑا بہت لکھا تھا ڈرتے ڈرتے لے گئے۔تو حضور نے دیکھ کر پوچھا کہ حساب میں فلاں فلاں آمد اور فلاں فلاں خرچ درج نہیں تو حکیم صاحب کی گھبراہٹ کی کوئی حد نہ رہی۔یہ حال دیکھ کر فرمایا۔مولوی صاحب ہم جانتے ہیں آپ دیانت دار ہیں۔آپ نے خیانت نہیں کی۔جاؤ حساب ٹھیک ہے۔پھر فرمایا آپ حساباً يسيراً کی تفسیر پوچھتے تھے۔اسی طرح قیامت