اصحاب احمد (جلد 2) — Page 683
683 لئے دعائیں کی جائیں۔مجھے ایسا الہام کسی امر کی نسبت ہو تو میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ وہ ہونے والا ہے۔،، ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء میں حضور تحریر فرماتے ہیں: چونکہ دلوں پر اللہ جل شانہ کا تصرف ہے اس لئے سوچا کہ کسی وقت اگر جل شانہ نے چاہا تو آپ کے لئے دعا کی جائے نہایت مشکل یہ ہے کہ آپ کو اتفاق ملاقات کا کم ہوتا ہے اور دوست اکثر آمد و رفت رکھتے ہیں۔“ ( مکتوب نمبر۷ ) - ۱۴؍ دسمبر ۱۸۹۵ء کو تحریر فرماتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم عزیزی مجبی اخویم خان صاحب سلمہ تعالیٰ نحمده ونصلى على رسوله الكريم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا محبت نامہ پہنچا۔میں بوجہ علالت طبع کچھ لکھ نہیں سکا کیونکہ دورہ مرض کا ہو گیا تھا۔اور اب بھی طبیعت ضعیف ہے۔خدا تعالیٰ آپ کو اپنی محبت میں ترقی بخشے اور اپنی اس جاودانی دولت کی طرف کھینچ لیوے جس پر کوئی زوال نہیں آسکتا۔کبھی کبھی اپنے حالات خیریت آیات سے ضرور اطلاع بخشا کریں کہ خط بھی کسی قدر حصہ ملاقات کا بخشتا ہے۔مجھے آپ کی طرف دلی خیال ہے اور چاہتا ہوں کہ آپ کی روحانی ترقیات بچشم خود دیکھوں۔مجھے جس وقت جسمانی قوت میں اعتدال پیدا ہوا تو آپ کے لئے سلسلہ توجہ کا شروع کروں گا۔اللہ تعالیٰ اپنا فضل اور توفیق شامل حال کرے آمین۔والسلام غلام احمد عفی عنه ۱۴دسمبر ۱۸۹۵ ء روز پنجشنبه ۷ ۴/ جولائی ۱۸۹۸ء کو تحریر فرماتے ہیں: ۴۸۹ كل مـع الـخـيــر على الصباح تشریف لے جاویں۔اللہ تعالیٰ خیر و عافیت سے پہنچائے آمین۔٤٩٠ - ۲۶ جولائی ۱۸۹۸ء کو حضور تحریر فرماتے ہیں: آپ کی شفا کے لئے نماز میں اور خارج نماز میں دعا کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے فضل وکرم پر امید ہے کہ شفاء عطا فرما دے۔آمین ثم آمین۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیچک