اصحاب احمد (جلد 2) — Page 668
668 اور پھر تحریر فرماتے ہیں: حضور کے حکم میں تکلیف عین راحت ہے مگر پھر بھی مجھ کو اس وقت پر حضوڑ کے حکم کی تعمیل کرنی ہے خواہ کچھ ہو“۔ایک دفعہ حضور بیمار ہوئے جب صحت یاب ہوئے تو نواب صاحب نے عرض کیا: سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم۔الحمد اللہ کہ حضور تواب مع الخیر دوروز سے سیر ( کو) * بھی تشریف لے جاتے ہیں۔اس لئے اب اجازت فرمائی جائے کہ حضور کی صحت کی خوشی میں دعوت میں آج کر دوں۔حضور نے جوابا رقم فرمایا: بسم الله الرحمن الرحيم راقم محمد علی خان نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا نہ۔خدا تعالیٰ کا در حقیقت ہزار ہا گونہ شکر ہے۔کہ موت جیسی حالت سے واپس لا کر صحت بخشی۔اب آپ کو اختیار ہے کہ کسی دن خواہ جمعہ کو عام دعوت سے اس شکر یہ کا ثواب حاصل کریں۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ٤٦٤ انسان تکلف سے بہت کچھ کر لیتا ہے اور بعض اوقات اس کی ایسی باتیں دوسروں پر اثر ڈالتی ہیں لیکن ایک شخص خلوت میں اپنی ڈائری میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے اور ڈائری بھی وہ جو اپنے شوق سے لکھی جا رہی ہے اور اس کا مقصد شائع کرنا نہیں اور ساری عمر میں صرف چند ماہ کے سوانح ڈائری میں ضبط تحریر میں لاتے ہیں اس وقت کسی قسم کا تکلف ان کے الفاظ پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔حضرت نواب صاحب ۱۴ نومبر ۱۹۰۱ء کو قادیان تشریف لائے ہیں۔سفر اور پھر سفر بھی ایسے رئیس کا جسے ہر طرح کے سامان آرام و راحت میسر ہوں اور پھر ہچکولے کھاتا اور گر د پھانکتا قادیان پہنچے یقیناً اس وقت اپنی پرائیویٹ حیثیت میں جو چند الفاظ وہ تحریر لفظ کو خاکسار مولف نے زائد کیا ہے۔