اصحاب احمد (جلد 2) — Page 647
647 مطابق ہوئے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو جو رویا نواب صاحب کے وصال کے بعد ہوئے۔آپ کے الفاظ میں درج ہیں : دو مجھے اس بات کا بہت خیال رہتا ہے کہ نواب صاحب کو خواب میں دیکھوں لیکن کم ہی خواب میں دیکھا مگر دو چار بار بہت مبشر خواب آئے۔ایک خواب نواب صاحب نے خطبہ میں بیان کر دی تھی۔ایک خواب یہ دیکھا کہ ایک سواری ہے جو کہ چارپائی کی طرح کی ہے۔اور ہوائی جہاز کی طرح اڑتی جارہی ہے اس کے اوپر میں ہوں اور سامنے میرے نواب صاحب بیٹھے ہیں مجھے کہتے ہیں کہ مجھے تو جہنم کی کھڑکی تک نہیں دکھائی گئی۔بُر دار مخمل کی طرح کے کپڑے کی بہت ہی سفید صدری بند گلے کی پہنی ہوئی ہے۔اور سینے پر ہاتھ پھیر کر کہتے ہیں کہ جس نے یہ پہنی ہوتی ہے اس سے ایسا ہی سلوک ہوتا ہے۔پھر ایک بار میں نے دیکھا کہ سامنے سے آ رہے ہیں۔تو مجھے خواب میں یہ احساس تھا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں تو میں نے بے بی (Baby) کو کہا کہ وہ تمہارے ابا میاں آگئے۔آپ نے بچے کو گلے سے لگایا اور پیار کیا اور پوچھا تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں۔اور کسی چیز کی ضرورت تو نہیں اور اس کے کان میں آہستہ سے کہا کہ میں تمہارے لئے بشارتیں لایا ہوں اور پھر مجھ سے پوچھا کہ کوئی تکلیف تو نہیں اور کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔میں گھبرا کے بول رہی ہوں اور کہتی ہوں کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں مگر آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔تو آپ کا جسم اس وقت مجھے اس طرح معلوم ہوتا ہے جیسے بلور کا ہو اور اس پر روشنی پڑ رہی ہو اور اونچے ہوتے جا رہے ہیں۔قد نہیں بلکہ وہ مقام جس میں کھڑے ہیں۔دروازہ سا ہے اور بلند ہوتا جا رہا ہے۔میری بات کے جواب میں پہلے کہا کہ مل ہی لینگے اور پھر کہا اس دنیا میں دعائیں کر لو جتنی چاہو۔پھر کہا یہاں خدا سے ڈرلو جتنا چا ہو۔وہاں تو کچھ بھی نہیں۔تو یہ بات مجھے اس رنگ میں سخت ناگوار گزری ہے کہ اس کا مفہوم خدا تعالیٰ کی ہستی سے نعوذ باللہ انکار تو نہیں؟ اور میں نے گھبرا کر نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھ کر کہا کہ یہ کیا کہا ؟ پھر اس کے جواب میں میری طرف دیکھ کر کہا کہ پھر میرے ساتھ تو یہی سلوک ہوا۔میں نے تو یہی دیکھا کہ رحمت ہی رحمت۔بخشش ہی بخشش۔نہ دیکھا نہ بھالا۔نہ پوچھا نہ گچھا۔اٹھا اور بخش دیا اور پھر رحمتیں ہی رحمتیں۔یہ سنکر مجھے بے حد خوشی ہوئی اور آنکھ کھل گئی۔قریباً سینتیس سال قبل خود حضرت نواب صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ نے حسن خاتمہ بلکہ اعلیٰ خاتمہ کی خبر دی تھی۔سیدہ محتر مہ رقم فرماتی ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے تھوڑے عرصہ کے بعد آپ نے