اصحاب احمد (جلد 2) — Page 636
636 حکمران خاندان کے ساتھ بعض سیاسی حقوق کے متعلق حکومت پنجاب میں مطالبات پیش تھے اور حکومت ابتداء سلسلہ سے بدظن تھی۔محض اس خیال سے کہ ان کے ان ذاتی معاملات پر جو سارے خاندان سے وابستہ تھے اس سے کوئی مضر اثر نہ پڑے یہ چاہا گیا تھا۔مگر حضرت کے اس خط کے بعد ان میں ایک خارق عادت قوت پیدا ہوگئی اور کسی مرحلہ پر ان کو اخفاء کی ضرورت پیش نہ آئی بلکہ سلسلہ کے لئے حکام سے انہوں نے بڑی بڑی بخشیں کیں۔مجھے یاد ہے کہ لاہور کے ایک کمشنر اینڈرسن تھے۔اُن سے نواب صاحب کی ملاقات ہوئی اور اس نے بعض ظنوں کا ذکر کیا تو نواب صاحب نے نہایت جرات اور قوت کے ساتھ اس کو جواب دیا اور بالآخر اس گفتگو میں اس سے منوالیا کہ حکومت کو غلطی لگی ہے اور یہ نیچے کے افسران کی رپورٹوں کا نتیجہ ہے۔نواب صاحب ان ایام میں حضرت اقدس سے خاص طور پر دعائیں کرا رہے تھے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے مرزا خدا بخش صاحب کو خصوصیت کے ساتھ ان کے تمام اخراجات کثیر برداشت کر کے قادیان میں رکھا ہوا تھا تا کہ وہ یاد دہانی کراتے رہیں۔اسی سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کشف دیکھا۔ور مشفقی عزیزی محبی نواب صاحب سردار محمد علی خاں صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ آج کی ڈاک میں مجھ کو ملا۔الحمد لله والمنة کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو صحت بخشی۔اللہ جل شانہ آپ کو خوش رکھے اور عمر اور راحت اور مقاصد دلی میں برکت اور کامیابی بخشے۔اگر چہ حسب تحریر مرزا خدا بخش صاحب آپ کے مقاصد میں سخت پیچیدگی ہے مگر ایک دعا کے وقت کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے پاس موجود ہیں اور ایک دفعہ گردن اونچی ہوگئی اور جیسے اقبال اور عزت کے بڑھنے سے انسان اپنی گردن کو خوشی کے ساتھ اُبھارتا ہے ویسی ہی صورت پیدا ہوئی۔میں حیران ہوں کہ یہ بشارت کس وقت اور کس قسم کے عروج سے متعلق ہے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ظہور کا زمانہ کیا ہے۔مگر میں کہہ سکتا ہوں کہ کسی وقت میں کسی قسم کا اقبال اور کامیابی اور ترقی عزت اللہ جل شانہ کی طرف سے آپ کے لئے مقرر ہے۔اگر اس کا زمانہ نزدیک ہو یا ڈور ہو۔سو میں آپ کے پیش آمدہ ملال سے گو پہلے غمگین تھا مگر آج خوش ہوں۔کیونکہ آپ کے مال کار کی بہتری کشفی طور پر معلوم ہوگئی۔واللہ علم بالصواب۔“ ۴۴۰