اصحاب احمد (جلد 2) — Page 611
611 اسی طرح حضور اسلام کی بعض خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: اور ایک نمونہ ان نشانوں کا جو دوستوں کے متعلق ظاہر ہوئے نواب محمد علی خانصاحب کا لڑکا عبدالرحیم خاں ہے وہ سخت بیمار ہو گیا تھا یہاں تک کہ اُمید منقطع ہو چکی تھی ایسے نازک وقت میں اس کے لئے دُعا کی گئی دُعا کے جواب میں ایسا معلوم ہوا کہ حیات کا رشتہ منقطع ہے تب میرے منہ سے نکل گیا کہ اے میرے خدا اگر دُعا منظور نہیں ہوتی تو اس لڑکے کے لئے میری شفاعت منظور کر۔تب جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا من ذالذی يشفع عنده الا باذنه یعنی کون ہے جو بغیر اذن خدا تعالیٰ کے شفاعت کر سکتا ہے تب میں پچپ ہو گیا اور اس بقیہ حاشیہ: حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بڑی بے تابی سے عرض کی گئی کہ عبدالرحیم کی زندگی کے آثارا چھے نظر نہیں آتے۔حضرت رؤف و رحیم تہجد میں اس کے لئے دعا کر رہے تھے کہ اتنے میں خدا کی وحی سے آپ پر کھلا کہ " تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر۔میرے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے بالمواجہ مجھے فرمایا۔جب خدا تعالیٰ کی یہ قبری وحی نازل ہوئی تو مجھ پر حد سے زیادہ مخزون طاری ہوا کہ اس وقت بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا کہ یا الہی اگر یہ دعا کا موقع نہیں تو میں شفاعت کرتا ہوں۔آنحضرت اقدس علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ دعا اور شفاعت حقیقت میں تو ایک ہی ہے لیکن صرف فرق اسی قدر ہے کہ دُعا تو ہے ایک شخص خواہ مسلم ہو مومن ہو خواہ کا فرو مشرک ہو خواہ فاسق و فاجر ہو کر سکتا ہے اور یوں ہر ایک شخص کی دُعا قبول بھی ہو جاتی ہے۔مگر شفاعت ہر ایک شخص نہیں کر سکتا کیونکہ دُعا میں ایک عاجزی اور انکساری ہوتی ہے اور شفاعت میں اپنی وجاہت اور قبولیت اور اپنا خاص تعلق جو اللہ تعالیٰ سے اس کو ہے یا اس سے اللہ تعالیٰ جل شانہ کو ہے۔(ایڈیٹر ) اس کا موقعہ تو ہے اس پر معاوجی نازل ہوئی يسبح له من في السموات ومن في الارض من ذا الذى يشفع عنده الا باذنه۔اس جلالی وحی سے میرا بدن کانپ گیا اور مجھ پر سخت خوف اور ہیبت وارد ہوئی کہ میں نے بلا اذن شفاعت کی ہے۔ایک دو منٹ کے بعد پھر وحی ہوئی انک انت المجاز یعنی تجھے اجازت ہے اس کے بعد حالا بَعْدَ حَال عبدالرحیم کی صحت ترقی کرنے لگی اور اب ہر ایک جود یکھتا اور پہچانتا تھا اسے دیکھ کر خدا تعالیٰ کے شکر سے بھر جاتا اور اعتراف کرتا ہے کہ لاریب مُردہ زندہ ہوا ہے۔اس سے زیادہ مسئلہ شفاعت کا حل اور کیا ہو سکتا ہے اور یہی خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہے۔افسوس ہے احمق نصرانی پر جو ایک نا تو ان انسان کے پھانسی ملنے کو شفاعت کی غایت سمجھتا ہے خدا کرے کہ دنیا کی آنکھیں گھلیں اور اس بچے شفیع اور حقیقی ٹو کو پہچانیں جو وقت پر ان کے لئے آسمان سے نازل ہوا ہے اور کفارہ وغیرہ بے بنیاد افسانوں کو چھوڑ دیں جن کا نتیجہ اب تک بجز رُوح کی موت اور جسم کی ہلاکت کے اور کچھ نظر