اصحاب احمد (جلد 2) — Page 16
16 کی بہت خوشی منائی۔مگر یہ علم نہ تھا کہ اس بیٹے کے مقدر میں تو غلام مسیح موعود ہونا لکھا ہے اور چودھویں برس سے ہی یہ شیعیت کو ترک کرنے کی بنیا درکھ دے گا۔(ن) فرماتے تھے کہ چودہ سال کی عمر میں محرم کا زمانہ تھا ایک مجلس کے بعد ماتم زور شور سے ہو رہا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ ہاتھ تو میرا تھک گیا دل میں ذرا بھی اصلی جوش نہ درد۔نہ ہی رونا آرہا ہے نہ ماتم کی خواہش ہے۔تو یہ ماتم کیوں؟ صرف اس لئے کہ لوگ دیکھ رہے ہیں؟ تو یہ گویا اصلی ما تم حسین نہیں محض دکھاوا ہے ( ریا کاری سے سخت متنفر تھے ہی کیونکہ یہ مادہ ہی طبیعت میں نہ تھا) دل میں اپنے ہی اس فعل سے شدید نفرت سی پیدا ہوئی۔فوراً ہاتھ روک لیا۔وہ دن تو خیر گذرے مگر آئندہ محرم کرنا صرف رسم کا رہ گیا۔بھائیوں کی خاطر یا اس کو مجبوری سمجھو کہ ابھی با اختیار نہ تھے۔کورٹ نہ کھلا تھا۔اسی طرح اس نفرت کی شدت کا موجب یہ امر بھی ہوا کہ آپ کے سوتیلے بھائی عزاداری کا علیحدہ انتظام کرتے تھے۔اور آپ علیحدہ اور بعد میں فخر یہ رنگ میں بیان کیا جاتا تھا کہ ہمارے ہاں عزا داری دوسروں سے اچھی ہوئی۔ہمارے مرثیہ گوزیادہ اچھے تھے ہمارے ہاں ماتم بہتر رنگ میں منایا گیا۔آپ کو خیال آیا کہ اگر یہ مذہبی بات ہے تو علیحدہ علیحدہ ماتم منانے کی کیا وجہ ہے۔دوسرے آپ نے دیکھا کہ جب میں زور سے سینہ کوبی کرتا ہوں تو لوگ بھی زور سے کرتے ہیں۔اور آہستہ کرتا ہوں تو وہ بھی آہستہ کرتے ہیں۔آپ نے سوچا کہ ما تم حب حسین کی وجہ سے ہوتا تو پھر ایسا کیوں ہوتا۔معلوم ہوتا ہے کہ حُب حسین اس کا موجب نہیں ہے۔اسی زمانہ میں مالیر کوٹلہ میں مولوی عنایت علی شاہ آئے ہوئے تھے جو کہ شیعوں میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔آپ نے ان سے پوچھا کہ عزاداری کیسے ہونی چاہئے تو ان کے جواب کے الفاظ تھے کہ عزاداری امام آن طور باید کرد که طریقہ ائمہ بود۔آپ نے کہا کہ آئمہ کا طریق کیا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ وہ بیٹھتے تھے اور کر بلا کے واقعات کا ذکر کرتے تھے۔اور غم مناتے تھے وبس۔اس پر نواب صاحب نے ماتم منانا چھوڑ دیا۔وہاں کے کھوجے جو کہ شیعہ تھے آپ کے پاس آئے وجہ معلوم کر کے مُلاں صاحب کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ نواب صاحب کا کہنا درست ہے زیادہ اصرار کیا تو انہوں نے کہا کہ تو سگ ہستی تم گتے ہو۔(م) اب کیا تھا دریا کے بلبلوں کی مانند یکے بعد دیگرے اعتراض دل میں اُٹھنے لگے۔سوچنے اور غور کرنے کی عادت تو تھی جس سے ایک ایک بات میں بات نکلنے لگی۔اعتراض پیدا ہوتا مجتہدین سے سوال کرتے کتابیں دیکھتے اس کا حل کرتے کرتے اور کئی عقدے حل ہو جاتے اسی سلسلہ میں مذہبی میلان اور بھی بڑھتا گیا۔تاریخ اسلام کا شوق ہوا۔صحابہؓ کے کار ہائے نمایاں دیکھے دل نے تبر ابازی پر لعنت کی۔پھر دل نے کہا یہ نیازیں وغیرہ