اصحاب احمد (جلد 2) — Page 15
15 جو لوگ کہتے تھے کہ رسمیں چھوڑنا پیسہ بچانے کا بہانہ ہوتا ہے ان کا منہ تو انہوں نے یوں تو ڑا کہ جہاں شریعت کی اجازت تھی یعنی عقیقہ وغیرہ اس میں خوب دل کھول کر خرچ کیا۔اور سارے خاندان کے علاوہ ہند و مسلمان متعلقین کو بڑی بڑی دعوتیں دیں۔غرباء میں کھانا اور روپی اتنا تقسیم کیا کہ معترضین قائل ہو گئے۔یہ طریق اختیار کیا کہ اگر شریعت کے مطابق تقریب پر غریب سے غریب اور ملازم تک بلاتا تو چلے جاتے حتی کہ ایسے لوگوں کے ہاں بھی جہاں اور اہل خاندان جانا بہتک جانتے لیکن رسوم پر قریب ترین اور بڑے سے بڑے کو جواب صاف ملتا۔نہ خود شرکت کرتے نہ گھر والوں کو شرکت کرنے دیتے۔(ن) فرماتے تھے جوں جوں ذرا ہوش آتا گیا۔مجھے شرک سے سخت نفرت ہوگئی۔جس بات میں ذرا بھی مشرکانہ پہلو نظر آتا میرا دل اس سے نفرت کھاتا تھا اور یہ جذبہ طبیعت میں پیدا ہونا محض خدا داد تھا اور اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہی تھا۔اس ضمن میں ایک واقعہ محترمہ ہمشیرہ فاطمہ بیگم نے کئی بار سُنایا اور خود ان سے بھی تصدیق ہوئی۔جب نواب صاحب کی پہلی لڑکی امتہ السلام ۷ روز کی ہو کر فوت ہو گئی تو جس دن چلہ نہانے کا دن تھا ہمشیرہ نے کچھ پھل بھیجا کہ بھاوج کی گود میں یہ پھل ڈال دیا جائے۔یعنی بعد غسل شگون نیک کے طور پر تو نواب صاحب نے بہت جوش اور غصہ سے کہا کہ یہ پھل لے جاؤ۔یہ تو ایک اٹھوانسی لڑکی تھی اگر سات جوان بیٹے قابل ہو کر بھی میرے سامنے مرجائینگے تو شرک ہرگز نہیں ہونے دونگا۔(ن ) طفولیت سے مذہب کی طرف رجحان فرماتے تھے کہ مجھے بچپن سے سوچ بچار کی عادت تھی والد کے دل میں بزرگان دین کا ادب اور محبت بہت تھی نیز علماء کی صحبت کا شوق تھا اور ان سے بہت مودبانہ سلوک کرتے تھے۔مجھے بچپن سے ہی جب کوئی مولوی یا مجتہد آتا ضرور ملواتے اور باتیں ہوتیں تو پاس بٹھلائے رکھتے۔اسی عمر سے ان صحبتوں کی ہی وجہ سے مجھ میں مذہبی مذاق پیدا ہو گیا تھا۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔شرک و بدعات وغیرہ سے بھی آپ بچپن سے ہی شدید طور پر متنفر تھے۔(ن ) شیعیت میں تربیت لیکن اس سے نفرت کا اظہار والد چونکہ شیعہ تھے انہوں نے آپ کے نام کا مجمع بھی بنوایا تھا جو یہ ہے: بحق جانشین محمد علی“ ایک بار تین چار سال کی عمر میں ایک دو اشعار مرثیہ کے حفظ کرا کے منبر پر کھڑا کروا کے پڑھوائے اور اس