اصحاب احمد (جلد 2) — Page 569
569 مگر جس کو اللہ تعالیٰ چاہے۔یعنی جس کو اللہ تعالیٰ نکالنا چا ہے لیکن ساتھ ہی کہہ دیا عطاء غیر مجذوذ یعنی یہ اٹھی عطاء ہے جو واپس نہ لی جائے گی۔پس بہشت سے انسان نہ نکلے گا۔لیکن دوزخ کی بابت فرمایا کہ اس بقیہ حاشیہ: - یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کشتی نوح جو اکتوبر ۱۹۰۲ء میں بصورت کتاب شائع ہوئی کس وقت تصنیف ہوئی تھی۔الحکم بابت ۷ ستمبر ۱۹۰۲ء میں زیر عنوان ” دار الامان کا ہفتہ مرقوم ہے ” حضرت اقدس نے کشتی نوح یا تقویۃ الایمان کے نام سے عجیب و غریب اشتہار شائع کیا ہے جو اگلی اشاعت میں پورا درج کیا جائے گا۔‘ (صفحہ ۱۶) اور ہ استمبر کے پرچہ میں اس عنوان کے تحت مرقوم ہے۔حضرت حجتہ اللہ نے ٹیکہ طاعون کے متعلق ایک زبر دست اشتہار لکھا ہے۔(صفحہ ۱۶) بعض بیرونی شواہد بھی اس عرصہ کی تعیین میں محمد ہیں مثلاً اشتہار طاعون جوعربی میں مع فارسی واردو کے ترجمہ کے حضرت اقدس نے ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ء کو شائع فرمایا اس میں طاعون سے حفاظت کے طریقے انابت الی اللہ وغیرہ کا ذکر ہے لیکن کشتی نوح کی طرح ٹیکے کی ممانعت کا ذکر نہیں جس سے معلوم ہوا کہ ابھی مذکورہ بالا الہامات نہیں ہوئے تھے۔ایک خارجی شاہد حضرت اقدس کا مکتوب بھی ہے جو حضور نے حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کو۳۰ را کو ۳۰ اپریل ۱۹۰۲ء کو تحریر فرمایا۔اس میں فرماتے ہیں۔” میں نے ابھی آپ کے لئے دعا کی ہے سخت امتحان کے دن ہیں۔آپ بھی توجہ سے تو بہ استغفار کرتے رہیں بہت دعا کرتے رہیں ہماری جماعت کے لئے ایک خاص رعایت ہوئی مگر معلوم رہے کہ کسی حد تک بعض کا بطور شہادت فوت ہونا ممکن مگر تشویش کامل۔تباہی خانگی سے محفوظ رہے گی کم ابتلاء ہوگا (کم ابتلاء ہوگا“ کے الفاظ مکتوب حضرت مسیح موعود بنام مولوی عبد اللہ صاحب سنوری مطبوعہ ۲۰ دسمبر ۱۹۲۱ ء میں موجود نہیں۔مؤلف ) تو بہ کے لئے ہر ایک پر زور دیں۔اب وقت ہے آئندہ جاڑا خطرناک ہے۔“ اس مکتوب سے قبل نازل شدہ جن الہامات سے جماعت کے لئے خاص رعایت کا علم ہوتا ہے وہ یہ ہیں (الف) ہفتہ مختتمہ ۱۷ اگست ۱۹۰۱ء میں ایام غضب الله - غضبتُ غضبًا شديدًا۔إِنَّهُ ينجى اهل السعادة۔انّى أنجى الصادقين (ب) ( لولا الاكرام لهلك المقام يأتي على جهنم زمان ليس فيها احد۔۴۰۸ لیکن غور کیا جائے تو حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری والے مکتوب میں جس الہام کی بناء پر رعایت کا مفہوم نکلتا ہے۔وہ ان الہامات ۰۱-۸-۷ اوغیرہ مذکورہ بالا سے نہیں نکل سکتا۔ان آخری الہامات میں تمام اہل سعادت اور صادقین کی نجات اور قادیان کی بربادی سے حفاظت اور بعد ازاں طاعون کے اختتام پذیر