اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 523 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 523

523 ہوئے۔قریب پانچ بجے قادیان پہنچے وہاں پر مولوی عبد الکریم صاحب اور مولانا مولوی نورالدین صاحب اور سیٹھ عبدالرحمن صاحب ، حاجی اللہ رکھا صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب اور دیگر برادران آشنا اور غیر آشنا سے ملاقات ہوئی اور حضور مرزا صاحب سے بھی نیاز حاصل ہوا۔چونکہ میں تھک گیا تھا اس لئے نماز مغرب اور عشاء میں شامل نہ ہوسکا۔بقیہ حاشیہ: - بیعت کر لی تھی مگر جب وہ ریاست میں عدالتی ہو گئے تو سلسلہ کے کاموں میں وہ دلچسپی نہ رہی۔“ مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب ذکر کرتے ہیں کہ و نیم احمدی تھے۔مالیر کوٹلہ کے باشندہ تھے۔حضرت والد صاحب کے اہل کار تھے پھر تعلیم پاکر ریاست میں بالآخر دیوان کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ان کی اولاد احمدی نہیں۔یہ انومبر ۱۹۰۶ء کو مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان میں پنجم پرائمری میں داخل ہوئے تھے۔( رسالہ تعلیم الاسلام جلد نمبر ۵ صفحه ۲۰۱ ) ان کا مدرسہ کے لئے چندہ دینے کا ذکر الحکم جلد۵ نمبر ۳ صفحہ ۱۶ کالم ۳ میں آتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳ صفحہ ۱۶ کالم ۳ میں میاں عبدالعزیز صاحب اور میاں اللہ بخش صاحب کے مدرسہ تعلیم الاسلام کے لئے چندہ کا ذکر آتا ہے مکرم میاں محمد عبدالرحمن صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ دونوں فوت ہو چکے ہیں۔احمدی نہ تھے میاں عبد العزیز صاحب کا لڑکا میرے پاس ملازم ہے۔“ مکرم عرفانی صاحب میاں اللہ بخش صاحب کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: وہ نواب صاحب کے ملازموں میں آلو کے نام سے مشہور تھا اور محمد اسمعیل اس کا بیٹا تھا۔یہ بھی پرانا ملازم نواب صاحب کا تھا بلکہ یہ لوگ نسلاً بعد نسل چلے آتے تھے۔“ مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں: نور محمد نواب صاحب کے باورچی خانہ میں چپاتی پکاتا تھا۔بیعت کر لی پھر حضرت اقدس کے ہاں آ گیا اور آخر وقت تک وہیں رہا۔حضرت اقدس کے کسی مکتوب میں اسی نور محمد کا ذکر ہے۔ان کے والد کا نام سیدا تھا۔۱۹۲۶ء میں فوت ہوئے قطعہ نمبر ا حصہ نمبر 1 قبر صفحہ 4 بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ مالیر کوٹلہ کے رہنے والے تھے۔ابراہیم ان کا اکلوتا بیٹا ان کی زندگی میں فوت ہو گیا تھا۔“ ان کے متعلق اس کتاب میں دوسری جگہ بعض اور باتیں بھی درج کی گئی ہیں۔