اصحاب احمد (جلد 2) — Page 448
۱- دوصدا کاسی روپیہ چنده 448 حضرت اقدس آپ کو ۹ جنوری ۱۸۹۲ء کوتحریر فرماتے ہیں: مبلغ دوصدا کیاسی روپیہ آں محبت کل کی ڈاک میں مجھے کومل گئے۔جزاکم اللہ خیرا۔جس وقت آپ کا روپیہ پہنچا ہے۔مجھ کو اتفاقا نہایت ضرورت در پیش تھی موقعہ پر آنے کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ خداوند کریم وقا در اس خدمت لکھی کا آپ کو بہت اجر دے گا۔وَاللهُ يُحِبُّ المحسنین آج مجھ کو صبح کی نماز کے وقت بہت تضرع اور ابتہال سے آپ کے لئے دعا کرنے کا وقت ملا یقین کہ خدا تعالیٰ اس کو قبول کرے گا۔۲- پانچ صدر و پیہ قرض دینا: نحمده ونصلى على رسوله الكريم ایک بار نواب صاحب نے پانچ صد روپیہ قرض دیا تھا۔حضور نے اس کا ذکر کیا اور مولوی محمد احسن صاحب امروہوی کی اعانت کی تحریک فرمائی۔یہ مد نظر رہے کہ اس وقت آتھم کے قصہ کی وجہ سے تعلقات اپنی سابقہ حالت پر نہ تھے۔پھر بھی حضرت نواب صاحب کو ایسی تحریک کے قابل پاتے ہیں۔حضور تحریر فرماتے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم مجی عزیزی نواب صاحب سلمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ چونکہ اس عاجز نے پانچ سو روپیہ آں محب کا قرض دینا ہے۔مجھے یاد نہیں کہ میعاد میں سے کیا باقی رہ گیا ہے اور قرضہ کا ایک نازک اور خطرناک معاملہ ہوتا ہے۔میرا حافظہ اچھا نہیں یاد پڑتا ہے کہ پانچ برس میں ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کتنے برس گزر گئے ہوں گے عمر کا کچھ اعتبار نہیں۔آپ براہ مہربانی اطلاع بخشیں کہ کس قدر میعاد باقی رہ گئی ہے۔تاحتی الوسع اس کا فکر رکھ کر تو فیق باری تعالیٰ میعاد کے اندراندرادا ہو سکے۔اور اگر ایک دفعہ نہ ہو سکے تو کئی دفعہ کر کے میعاد کے اندر بھیج دوں۔امید کہ جلد اس سے مطلع فرما دیں تا میں اس فکر میں لگ جاؤں کیوں کہ قرضہ بھی دنیا کی بلاؤں میں سے ایک سخت بلا ہے اور راحت اسی میں ہے کہ اس سے سبکدوشی ہو جائے۔دوسری بات قابل استفسار یہ ہے کہ مکرمی اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب قریباً دو ہفتہ سے قادیان تشریف لائے ہوئے ہیں اور آپ نے جب آپ کا اس عاجز کا تعلق اور حسن ظن تھا۔بیس روپیہ ماہوار ان کو اسی سلسلہ کی منادی اور واعظ کی غرض سے دینا مقرر کیا تھا۔چنانچہ آپ نے کچھ عرصہ ان کو دیا امید کہ اس کا ثواب بہر حال آپ کو ہوگا۔لیکن چند ماہ سے ان کو کچھ نہیں پہنچا۔اب اگر اس وقت مجھ کو اس بات کے ذکر