اصحاب احمد (جلد 2) — Page 443
443 اختلاف اور تعصب روز بروز زیادہ ہو رہا ہے۔آزادی کا نتیجہ ملک کے لئے بہتر نہ نکلے گا ہندوستانیوں کی بے چینی کے اسباب مدلل طور پر بیان کئے۔نیز اصلاحات کی سکیم بھی پیش کی۔یہ ایڈریس چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے پڑھا تھا۔وفد کے نو افراد میں سے ایک نواب صاحب تھے۔-۳- انفاق فی سبیل اللہ یہ سنت اللہ ہے کہ الہی سلسلہ کی ابتداء نہایت ہی کمزور ہوتی ہے۔بادصرصر کے ہر جھونکے سے اس کے ضعیف پودے کے استیصال کا خدشہ ہوتا ہے۔بے شک دنیوی رہبروں کو بھی مخالفتوں کی بھٹی میں سے گزرنا پڑتا ہے۔لیکن ان کی ترقی حیرت زدہ اور تعجب خیز نہیں ہوتی کیونکہ وہ قوم کی دنیوی ترقی اور اصلاح کے خیالات لے کر اٹھتے ہیں جو خود قوم کے اپنے خیالات ہوتے ہیں لیکن الہی فرستادے ایسی باتیں لاتے ہیں جو کہ لوگوں کے خيالات منقوله أباعَنْ جَدا اور اعتقادات راسخہ کے بالکل خلاف ہوتی ہیں۔اس لئے عناد ومخالفت کا وہ طوفان بر پا ہوتا ہے کہ الا مَان وَالْحَفِيظ اور اس نھی سی اور بظاہر بے یارومددگار جماعت کی چھوٹی سی ناؤ اس طوفان کے ظالم تھپیڑوں میں یوں معلوم ہوتی ہے کہ ڈبکیاں کھانے لگی ہے اور اب ڈوبی کہ اب ڈوبی۔لیکن اس شرذمہ قلیلہ اور مٹھی بھر گروہ کا نا خدا اور حقیقی متولی ان کی نصرت فرماتا ہے۔اسلام کے ابتدائی ایام کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔تیرہ سال تک مکہ میں مسلمانوں پر وہ ظلم وستم ڈھائے گئے کہ خامہ خون کے آنسو روتا ہے اور انسانیت شرم کے مارے منہ چھپاتی ہے۔ان خوں چکاں حالات میں کفار کے جن زرخرید اور بے کس غلاموں نے اور غریب لوگوں نے اسلام کا طوق غلامی اپنے گلے میں ڈالا۔اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد وفا باندھا تھا اسے اللہ تعالیٰ کے قول مِنْهُم مَّنْ قَضى نَحْبَهُ T کے مطابق ہر طرح نبھایا ان کی اولوالعزمی اور شجاعت اور فیاض دلی اور وفا کیشی کو سمجھنا شاید دنیا کے فرزندوں کے لئے مشکل ہو گا۔جیسے بھوکوں مرتے شخص کے لئے جو کا دانہ جواہر کے دانے سے بدر جہا قیمتی ہوتا ہے۔اسی طرح ان ایام میں کہ اسلام پر غربت کا زمانہ تھا۔جس شخص نے مٹھی بھر ریویوار دو جلد ۱۶ نمبر ۲۲۔وفد کے باقی افراد کے نام یہ ہیں۔(۱) سردار امام بخش تمندار ڈیرہ غازیخان (۲) صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (۳) خان بہادر راجہ پاینده خاں صاحب جہلم (۴) سیٹھ عبد اللہ بھائی اللہ دین صاحب تاجر سکندر آباد دکن (۵) مولوی غلام اکبر خاں صاحب وکیل ہائی کورٹ حیدر آباد دکن حال نواب اکبر یار جنگ صاحب (۶) مولوی شیر علی صاحب ممبر صد را انجمن احمدیہ (۷) چوہدری فتح محمد صاحب سیال مسلم مشنری قادیان۔