اصحاب احمد (جلد 2) — Page 427
427 کتنے واعظ اس کام کے لئے مقرر ہیں تو بجز خاموشی کے ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔خدا عالی جناب نواب محمد علی خاں صاحب کا بھلا کرے کہ انہوں نے شیخ غلام احمد صاحب کو اس کام کے لئے مقررفرمایا اور ان کے ذاتی اخراجات کے کفیل وہ آپ ہوئے۔اسی طرح اس بارہ میں سیکرٹری صاحب صدر انجمن احمد یہ قادیان نے ایک ماہواررپورٹ میں ۱۹۱۰ء میں ریویو آف ریلیجنز (اردو) میں تحریر کیا کہ واعظین۔شیخ غلام احمد صاحب گزشتہ ماہ کے اختتام پر اطلاع دیتے ہیں کہ ضلع لائکپور کا دورہ ختم کر کے وہ ملتان کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔۔۔ملتان میں کئی موقعوں پر مؤثر وعظ کئے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شیخ صاحب کو بہت لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنا دے اور خاں صاحب نواب محمد علی خاں صاحب کو بھی جزائے خیر دے جو ان کے اخراجات کے متکفل ہیں۔مگر اپنے احباب کی اطلاع کے لئے میں اس قدر اور زیادہ لکھنا چاہتا ہوں کہ شیخ صاحب کو انجمن کی طرف سے یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ہر جگہ چندوں کی وصولی اور انجمنوں کے قیام کی طرف توجہ کریں۔بہت سا حصہ جماعت کا اب تک ایسا ہے جو باقاعدہ طور پر چندوں میں شامل نہیں ہوتا اور اس وجہ سے مالی تکالیف بھی پیش آتی رہتی ہیں بعض مدات جیسے لنگر خانہ روز بروز زیادہ مقروض ہوتی چلی جاتی ہیں بعض کے اخراجات کے پورا کرنے کا فکر ہر وقت انجمن کو دامن گیر ہے ان مشکلات کا پورا انتظام تو اس صورت میں ہی ہو سکتا ہے کہ ہر ایک ضلع میں دو دو یا تین تین ضلعوں میں ایک ایک محصل مقرر کیا جاوے جو وعظ اور تقریر بھی کرے اور چندوں کی وصولی کا انتظام بھی کرے۔مگر جب تک اللہ تعالیٰ ایسے آدمی پیدا کرے جو اس اہم ترین مقاصد کو پورا کرنے میں انجمن کے معاون ہوسکیں۔اس وقت تک جس قدر بھی انتظام اس طرز پر ہو سکے غنیمت ہے۔شیخ غلام احمد صاحب چونکہ اس صدرانجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹ بابت یکم اکتو بر ۱۹۰۸ ء تا ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ء میں مرقوم ہے۔سلسلہ تبلیغ میں شیخ غلام احمد صاحب واعظ نے مشرقی اضلاع میں دورہ کیا بالخصوص جالندھر، ہوشیار پور، کانگڑہ وغیرہ میں۔جناب شیخ صاحب کے وعظ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بہت مؤثر ہوئے۔اس ثواب میں جناب خاں صاحب محمد علی خاں صاحب بھی شامل ہیں جو شیخ صاحب کے خانگی اخراجات کے متکفل ہیں۔جزاہ اللہ خیرا۔“ (صفحہ۴۰)