اصحاب احمد (جلد 2) — Page 426
426 حجت تھا اور حضور سے ان حقوق کے متعلق استدعاء دعا کے لئے آپ ہی نے اپنے بھائیوں کو آمادہ کیا تھا۔افسوس کہ ان آیات بینات سے اکثر افراد خاندان نے ذرہ بھر فائدہ نہ اٹھایا۔بعض دفعہ ایسے تبلیغی خطوط نواب صاحب حضرت اقدس کو بھی دکھا دیا کرتے تھے۔اس تعلق میں ہم ایک اور مثال درج کرتے ہیں نواب صاحب نے حضور کی خدمت اقدس میں تحریر کیا۔سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالی۔السلام علیکم۔بھائی خاں صاحب محمد احسن خاں صاحب نے مجھ کو ایک خط لکھا تھا اور ایک خط حضور کی خدمت میں بھی بھیجا تھا جو کل یہاں پہنچے۔میں ( نے ) اس خط کا جواب لکھا ہے اور برائے ملاحظہ حضور پیش ہے۔اگر حضور اس کو ملاحظہ ( کر کے ) تصحیح سے سرفراز فرمائیں تو عین سعادت ہے۔حضور نے خط پڑھ کر تحریر فرمایا۔راقم محمد علی خاں مجی عزیزی اخویم نواب صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میں نے اول سے آخر تک حرفاً حرفاً پڑھ لیا ہے یہ خط نہایت عمدہ اور مؤثر معلوم ہوتا ہے۔ایسا ہی لکھنا چاہئے تھا۔جزاکم اللہ خیرا۔والسلام پہلا با تنخواہ مبلغ خاکسار مرزا غلام احمد آپ کو تبلیغ حق کا جو سچا جوش تھا اس کے تموجات مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتے رہتے تھے۔ابھی جبکہ صدر انجمن احمدیہ کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ با تنخواہ مبلغ رکھ سکے۔نواب صاحب نے اپنے خرچ پر پہلا با تنخواہ مبلغ رکھا۔جس کے ذاتی اخراجات کے نواب صاحب خود کفیل ہوتے تھے اور انہیں بسا اوقات پانچ پانچ چھ چھ صد روپیہ کی اکٹھی امداد بھی کر دیا کرتے تھے۔معزز الحکم میں مرقوم ہے۔” جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں تبلیغ کے لئے ہم نے ایک بھی واعظ مقر رنہیں کیا تو اس امر کے ظاہر کرتے ہوئے شرم آتی ہے کہ اشاعت اسلام کا عظیم الشان مقصد اور کام ہمارے ہاتھ میں ہو اور قوموں کے سامنے ہم بڑی جرات کے ساتھ یہ ظاہر کریں کہ ہم اشاعت اسلام کر رہے ہیں لیکن جب یہ سوال ہو کہ شاید یہ وہی خط ہے جو ہجرت کے ذکر میں درج ہو چکا ہے اور اس کا جواب بھی۔نواب محمد احسن علی خاں صاحب نے حضرت نواب صاحب کو قادیان قیام رکھنے سے منع کیا تھا۔اور مالیر کوٹلہ واپس آ جانے کی زور دار تحریک کی تھی۔