اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 418 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 418

418 کے نام کا خط سن کر خوش ہوئے۔“ بقیہ حاشیہ:- ان میں بھی کچھ ترمیم ہوئی ہے پس بھجوائے آنچہ برخود نے پسندی بر دیگراں ہم مپسند۔چونکہ میں اس امام آخر الزماں سے بے تعلقی کو ہلاکت سمجھتا ہوں اس لئے میرے دل میں تحریک ہوئی کہ میں آپ کو بھی تبلیغ کر دوں تا کہ میرا استاد جو میری خورد سالی میں مجھ پر مہربان تھا۔اور اس کی خندہ پیشانی پر رشد برستا تھا۔وہ خدا کے عذاب میں نا دانستہ مبتلا نہ ہو۔پس اپنے میں حق شاگردی کو ادا کرنے کے لئے میں نے یہ جرات کی ہے۔سنیئے منشی صاحب ! تمام اقوام ایک شخص کے آنے کے منتظر ہیں۔یہودی عیسائی اور مسلمان مسیح کے آنے کے منتظر ہیں اور ہندو بھی ایک دیوتا صاحب کے اور سکھ ایک گرو کے آنے کے منتظر ہیں۔اسی طرح اور دوسری اقوام سے پوچھا جائے تو وہ بھی کسی نہ کسی کے منتظر پائے جائیں گے۔معاف فرما ئیں مجھ کو اس لکھنے کی اس لئے بھی جرات ہوئی کہ آپ نے طاعون کی بلا سے بچنے کے لئے خیمہ طلب فرمایا ہے۔پس میں نے فرض سمجھا کہ آپ کو ماسوا اس کپڑے کے خیمے کے ایسا خیمہ بتلاؤں جو واقعی اس مامور من اللہ یعنی طاعون کے لئے خیمہ ہے۔مسلمانوں کے ہاں قرآن شریف اور احادیث سے جو آثارات ثابت ہوتے ہیں وہ سب درست پائے گئے۔چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ اسلام سب ادیان پر غالب آئے گا۔اونٹوں کی سواری بند ہوگی دختر کشی کی بابت سوال ہوگا۔اخبارات کی کثرت ہوگی۔زمین اپنے بوجھوں کو باہر پھینکے گی اور پھر از سر نو تبدیلی پیدا ہوگی وغیرہ۔قرآن شریف (سے) بدیہی طور سے ثابت ہوتا ہے کہ امام مسلمانوں میں سے ہوگا۔اس زمانہ میں کسوف خسوف ہوگا۔احادیث صحیحہ میں بھی بڑی شدومد سے مسیح کے نزول اور اس کے مسلمانوں میں سے ہونے اور اس کے آثارات لکھے ہیں اور زمانہ بھی ایک مامور من اللہ اور مصلح کی ضرورت بتلاتا ہے کسی مذہب میں صدق وصفا نہیں اس وقت ہندوستان میں تین بڑے مذہب ہیں ایک مسلمان دوسرے ہندو تیسرے عیسائی ، اب دیکھنا یہ ہے کہ ان تینوں مذہبوں میں کون سامذہب حق پر ہے۔اس مختصر خط میں اس کی تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔مگر موٹے طور سے مندرجہ ذیل امور مذہب کے من جانب اللہ ہونے کے عمدہ شناخت کے عرض کرتا ہوں۔اول مذہب من جانب اللہ وہی ہے کہ جس کا خدا زندہ ہے اور وہ اس مذہب کے پیروؤں میں سے بعض یا اکثر کے ساتھ کلام کرتا ہے۔اس مذہب کی سچائی زندہ نشانوں سے ظاہر کرتا ہے۔اور اس مذہب کے جس مامور من اللہ کو بھیجتا ہے۔اس کی تائید میں ہزاروں نشان ظاہر کرتا ہے اور (اس)