اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 414 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 414

414 ۱۶ جنوری ۱۸۹۸ء۔" آج بھی استخارہ کیا۔۷ ارجنوری ۱۸۹۸ء۔”نماز ظہر کے بعد آج بھی استخارہ بقیہ حاشیہ : بے حد خرابی نہیں آگئی اور باوجود خرابی کے خداوند تعالیٰ فرماتا ہے ومـا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نبعث رسولا - پس غور کروکون رسول آ گیا جس کی تکذیب کی بلاؤں میں ہندوستان مبتلا ہوا ہے۔میں جلدی میں صرف نوٹ سے لکھ رہا ہوں مجھ کو اس وقت فرصت نہیں۔حضرت اقدس کے ساتھ سیر کو جانا ہے اس وقت حضرت مسیح موعود و مهدی مسعود جری اللہ فی حلل الانبیاء سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے ہیں اور بہت معارف و حقائق بیان فرمایا کرتے ہیں۔یہاں ہندو اور عیسائی مسلمان بن کر فیض اٹھارہے ہیں قریباً ہر قسم اور ہر ملک کے لوگ آگئے ہیں۔ہر روز قدم آگے ہے پیچھے نہیں۔میں نے بھی ارادہ کیا ہے کہ ہجرت کر کے یہاں ہی رہوں۔خدا تعالیٰ پورا کرے بڑا ہی بدنصیب ہے جو یہاں سے دور ہے۔آؤ اور جلد آؤ اور دیکھو کہ کیا فضل خدا ہورہا ہے۔مگر ادب کے ساتھ حق جوئی کے لئے صحبت کا فائدہ اٹھانے کے لئے خوردہ بینی اور بدظنی کو پھینک کر۔را قم محمد علی خاں رئیس مالیر کوٹلہ نواب محمد احسن علی خاں صاحب نے اپنے خط مورخہ ۰۲-۲-۱۵ میں تحریر کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں ہے آپ حضرت مولوی نورالدین صاحب کو کہہ دیں کہ حضور کا جو اخبار اشتہار اور مضمون شائع ہو مجھے قیمتاً بھجوا دیا کریں۔(بقیہ امور جواب سے ظاہر ہیں ) اس کے جواب میں حضرت نواب صاحب نے ذیل کا خط تحریر فرمایا۔-1 -۲ ۲۶ فروری ۱۹۰۲ء بھائی صاحب مکرم و معظم سلمکم تعالی۔السلام علیکم۔جناب کا والا نامہ پہنچا جوا با عرض ہے۔بے شک مجھ کو یہاں آئے عرصہ ہو گیا مجھ کو یہ عرصہ بہت تھوڑا معلوم ہوتا ہے۔ایک تو یہاں فرصت بہت قلیل دوسرے ابتداء سے کوتاہ قلم ہوں اس لئے ارسال عریضہ سے قاصر رہا۔ہم سب تا دم تحریر خدا وند تعالیٰ کے فضل وکرم سے بخیریت ہیں۔۳- جناب کا نامہ والا بجنسہ حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب کو دکھلا دیا تھا الحمد للہ کہ جناب کی توجہ اس طرف ہوئی ہے۔۴- جناب نے مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ میں کب آؤں گا اور بعض مقدمات کا انفصال میرے آنے