اصحاب احمد (جلد 2) — Page 366
366 نواب صاحب کے بعد حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب فاضل امر وہی جو ہماری خوش قسمتی سے پہنچ گئے تھے کھڑے ہوئے۔اور انہوں نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔’ایہاالاحجاب انواب صاحب نے ( جو وصیت حضرت خلیفتہ المسیح کی ان کے پاس امانت تھی ) آپ کو بقیہ حاشیہ: - رقت، اخلاص اور جوش سے جماعت کو امام کے انتخاب کے متعلق نصیحت فرمائی اور آخر فر مایا که صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اس کے اہل ہیں۔ان کے ہاتھ پر میں بیعت کرتا ہوں اس پر ۲۶۳ چاروں طرف سے لوگوں نے بیعت کا اقرار اور اصرار کیا۔جس پر صاحبزادہ صاحب نے بیعت لی۔“ کتاب ہذا کے صفحہ ۳۴۹ پر میں نے تحریر کیا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کی اس وصیت کے الفاظ مطبوعہ میں شدید اختلاف ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا میں حد درجہ ممنون ہوں کہ انہوں نے از راہ کرم اس تاریخی وصیت کا چره به انتر واکر بھجوا دیا ہے۔جو ذیل میں درج ہے۔بالسترين السلم تحده را در یک ده که م ده به تیمر تقالها را انتا بھی جو اس استارت دلال الاحمر ولا اله ائے بہت ہماری گہ انی انگلی بردوش ما مردانه رانها با دریا که میان خود قایم کیا جارت رو قف على