اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 365 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 365

365 ۴ار مارچ ۱۹۱۴ء کو بعد نماز ظہر نواب صاحب کے مکان پر صدرانجمن کے ممبران موجودہ قادیان و بعض دیگر اہل الرائے احباب کا ایک خاص جلسہ بغرض مشورہ ضرورت خلیفہ ہوا۔اس میں حضرت فاضل امروہی، حضرت نواب محمد علی خاں صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ بشیر احمد صاحب، جناب مولوی محمد علی صاحب، جناب ماسٹر صدرالدین صاحب، جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ، جناب ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب، جناب شیخ رحمت اللہ صاحب اور مولوی شیر علی صاحب اور میر ناصر نواب صاحب وغیر ہا۔اس شوری میں مولوی محمد علی صاحب ڈاکٹر صاحبان اور شیخ صاحب اور ماسٹر صاحب ایک طرف تھے۔اور باقی بزرگ ایک امر پر متفق تھے آخر یہ تمام کونسل مسجد نور میں نماز عصر کے لئے پہنچی اور بعد نماز عصر تمام مجلس میں جہاں ایک کثیر جماعت مختلف اطراف ملک سے آکر جمع ہو چکی تھی سب سے اول (۱) حضرت نواب صاحب نے حضرت امیر المؤمنین سیدنا نورالدین صاحب اعلیٰ اللہ مقامہ کے وصی ہونے کی حیثیت سے پبلک کے سامنے وہ امانت پیش کی جو حضرت امیر مرحوم نے اپنی قلم سے لکھی تھی۔اور مولوی محمدعلی صاحب سے تین مرتبہ پڑھوا کر نواب صاحب کے پاس بطور امانت رکھوادی تھی۔نواب صاحب نے کھڑے ہو کر مندرجہ ذیل تقریر کی۔صاحبان مجھ پر حضرت خلیفہ اسیح ایک نہایت بھاری بوجھ ڈال گئے ہیں اور ایک بہت بڑی امانت میرے سپر د کر گئے ہیں اور وہ آپ کی وصیت ہے میں اسے آپ کے سامنے پڑھتا اور پیش کرتا ہوں تا کہ آپ اس وصیت کے موافق فیصلہ کریں کہ کوئی شخص خلیفہ ہو حضرت خلیفہ اسیح کا جنازہ پڑھنا ہے اور آپ کو دفن کرنا 66 ہے اور یہ سب کام خلیفہ کے ذریعہ ہو گا۔پس اب میں وصیت پڑھتا ہوں۔“ وصیت سنا کر فرمایا: یہ وصیت ہے حضرت خلیفتہ المسیح کی جس کو مولوی محمد علی صاحب نے تین بار حضرت کے حکم سے اس جلسہ میں پڑھا جہاں یہ وصیت لکھی گئی تھی۔اور میرے عرض کرنے پر اس پر دستخط کر دئے۔اور پھر میں نے احتیاط کے لئے مولوی محمد علی صاحب، مرزا یعقوب بیگ صاحب اور صاحبزادہ محموداحمد۔۔۔۔صاحب کے دستخط کرالئے۔اب ضروری ہے کہ اس وصیت کے موافق فیصلہ کریں کہ کون خلیفہ ہو۔“ نواب صاحب کے وصیت سنانے کے متعلق دوسری جگہ یوں مرقوم ہے۔☆"۔“ بعد نماز عصر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے بہ حیثیت وصی حضرت خلیفہ المسیح رضی اللہ عنہ کی وصیت کو پیش کیا اور انتخاب جانشین کا سوال پیش کیا۔حضرت فاضل امروہی نے کھڑے ہوکر نہایت