اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 356 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 356

356 ( کا) خیال کیا ہے۔ایک کاغذ پر دستخط کرائے گئے۔چنانچہ اس کے بعد کے واقعات تمام مولوی محمد احسن صاحب کے اظہار حق (سے) جولف ہذا ہے آپ کو ظاہر ہوں گے اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ پیغام صلح میں بقیہ حاشیہ: - خواجہ صاحب کا انداز بیان طریق خطاب اور تقریر کچھ ایسا در دبھرا، رقت آمیز اور زہرہ گداز تھا کہ ساری مجلس پر ایک سناٹا چھا گیا سکتہ کا عالم اور خاموشی طاری ہوگئی۔آخر شیخ رحمت اللہ صاحب نے سکوت کو توڑا اور کھڑے ہو ( کر ) ٹھیٹھ پنجابی زبان میں جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ مطلب اردو میں یہ ہے کہ میں نے قادیان آتے ہوئے راستہ میں بھی بار بار یہی کہا ہے اور اب بھی اسی کو دہراتا ہوں کہ اس بڑھے کو آگے کرو۔اس کے سوا یہ جماعت قائم نہ رہ سکے گی۔“ و شیخ صاحب کے اس بیان پر خاموش رہ کر گویا سبھی نے مہر تصدیق ثبت کی اور سرخم تسلیم کر دیا۔کسی نے اعتراض کیا نہ انکار۔اس اتفاق کے بعد انہی اصحاب نے معہ دیگر اکا بر صحابہ و بزرگان جماعت سید نا نورالدین اعظم رضی اللہ عنہ کے حضور درخواست کی جو باغ سے شہر تشریف لائے ہوئے تھے۔مگر حضور ممدوح نے کچھ سوچ اور تردد کے بعد فرمایا کہ میں دعا کے بعد جواب دوں گا۔چنانچہ وہیں پانی منگایا گیا۔حضرت نے وضو کر کے دو نفل نماز ادا کی اور دعاؤں کے بعد فارغ ہو کر فرمایا۔۲۵۷ ”چلو ہم سب وہیں چلیں جہاں ہمارے آقا کا جسد اطہر اور ہمارے بھائی انتظار میں ہیں۔“ چنانچہ یہ مجلس برخواست ہو کر پھر باغ پہنچی جہاں امیر خلافت کے متعلق موجودہ جماعت کے تمام مردوں اور عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے انشراح بخش کر خلافت حقہ پر متفق و متحد کر کے سلک وحدت میں پرو دیا۔“ باغ میں جب کہ جنازہ رکھا ہوا تھا اور احباب جمع تھے۔مکرم مفتی محمد صادق صاحب نے ذیل کی تحریر حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں بطور درخواست پڑھی ان درخواست کنندگان میں سے پچاس کے قریب کے اسماء درج اخبار ہو چکے ہیں ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ ) حضرت نانا جان ، حضرت مولوی شیر علی صاحب، نیز حضرت نواب صاحب کے اسماء بھی درج تھے۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم الحمد لله ربّ العلمين والصلوة والسَّلام عَلى خاتم النبيين محمد المصطفى وعلى المسيح الموعود خاتم الاولياء - اما بعد مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب میں سے اعلم اور اتنی ہیں اور حضرت امام کے