اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 350 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 350

350 اور اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے تقریر کی مگر اس میں اختلاف کی طرف بھی اشارہ کر گئے اس کے بعد گویا تمام جماعت میں سکون آگیا اور وہ ٹولی بندیاں اور کج بحثیاں بند ہوگئیں۔اور یہ پنجشنبہ کا واقعہ ہے۔اس کے بعد اسی روز میں نے میاں صاحب سے عرض کی کہ یہ مولوی محمد علی صاحب کا خیال صحیح نہیں کہ باہر اختلاف نہیں میرے خیال میں یہ مضمون شائع کر کے باہر بھی بھیجا جائے۔چنانچہ اس کے طبع کرنے کا انتظام کیا گیا۔رات کو پھر تمام احباب دعا میں مصروف ہوئے۔حضرت خلیفہ امسیح علیہ السلام کو نیکی اور قے اور کھانسی کی سخت تکلیف رہی۔صبح یعنی جمعہ کے روز بعد نماز ہم جب کوٹھی پر آئے تو حضرت کی طبیعت کچھ زیادہ ضعیف تھی مگر ڈاکٹر کہتے تھے آج کھانسی سے آرام رہا مگر مجھ کو زیادہ ضعف محسوس ہوتا تھا۔اس کے بعد کوئی سات بجے آدمی آیا کہ ڈاکٹر صاحب بلاتے ہیں۔میاں صاحب اور میں حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام کے کمرے میں گئے وہاں مولوی محمد علی صاحب بھی آگئے اور شیخ رحمت اللہ صاحب بھی۔اس وقت حضرت صاحب کی طبیعت اور بھی نحیف معلوم ہوئی اور بلغم سانس کے ساتھ بولتی تھی مگر یخنی وغیرہ آپ ( نے اٹھ کر کھایا لیٹے لیٹے نہیں کھایا۔کوئی دس بجے وہاں سے ہم سب با ہر آئے۔میں شیخ رحمت اللہ صاحب کو الگ لے گیا اور ان سے عرض کیا کہ بجائے اس کے کہ وقت پر باہم بحث ہو، بہتر ہے کہ ہم سب بیٹھ کر طریق انتخاب خلیفہ کی بابت تصفیہ کر لیں اور جوطریق باہمی اتفاق سے قائم ہو اس پر آئندہ کا روائی کی جائے انہوں نے کہا کہ بعد جمعہ سب اکٹھے ہو جا ئیں میں بھی اپنے احباب کو کہہ دوں گا۔اس کے بعد ہم کھانا کھانے گئے اور اس وقت میاں صاحب نے فرمایا کہ کچھ ہم ( میں ) سے یہاں بھی رہیں مگر حضرت کی طبیعت کسی قدر بحال دیکھ کر میں بھی جمعہ کو چلا گیا اور حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام کے پاس صرف ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب رہ گئے۔جمعہ سے ہم واپس آرہے تھے اور میاں صاحب اور میں گاڑی میں تھے کہ مولوی شیر علی صاحب کے مکان کے قریب میر املازم ملا۔اور اس نے اطلاع دی کہ حضرت خلیفۃ امسیح علیہ السلام کا انتقال ہو گیا۔میاں صاحب نے گاڑی کو دوڑانے کی تاکید کی اور انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھنا شروع کیا۔بورڈ نگ کے کواٹروں کے قریب گاڑی کو سست پا کر میاں صاحب اور میں پا پیادہ تیز قدمی چلے آخر کوٹھی پر پہنچے اور وہاں مولوی محمد علی صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور شیخ رحمت (اللہ ) صاحب اور کئی احباب بیٹھے رو ر ہے تھے۔اور میاں عبدالحی کو لئے بیٹھے تھے۔ہم بھی وہاں بیٹھ گئے۔میاں حب حضرت خلیفہ اسی مرحوم کے کمرے میں چلے گئے۔اسی حالت رنج و افسوس میں عصر کی اذان ہوگئی اور سب مسجد نور میں جمع ہو گئے۔بعد تمام عصر میاں صاحب نے پھر ایک تقریر کی اور اس میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کل جو صاحب روزہ رکھ سکیں وہ روزہ بھی رکھیں۔یہ تقریرہ پہلی تقریر کا قریباً اعادہ تھا اور نہایت یہ تقریر الحکم جلد ۱۸ نمبر ۳ صفحه ۹ بابت ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء میں طبع ہو چکی ہے۔۔(مؤلف)