اصحاب احمد (جلد 2) — Page 344
344 محمود احمد صاحب فضل عمر کے پاس بھی آپ کا تار اور خط پہنچا تھا۔اور اس وقت میں وہاں موجود تھا اس لئے مضمون خط سے وہیں مجھ کو اطلاع ہو گئی تھی۔گھر آنے پر میرے نام کا تار بھی ملا۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے پاس بہت بقیہ حاشیہ کے قرائن سے یہ مکتوب جناب شیخ محمد تیمور صاحب ایم۔اے ( حال وائس چانسلر خیبر یونیورسٹی صوبہ سرحد مغربی پاکستان ) کے نام لکھا گیا تھا۔1- اتنا طویل مکتوب نواب صاحب نے کسی ایسے شیخ صاحب کے نام لکھا ہوگا کہ جو جماعت میں معزز شمار ہوتے ہوں گے اور نواب صاحب نہ چاہتے ہوں گے کہ شیخ صاحب حالات سے ناواقف رہ کر بیعت خلافت ثانیہ سے محروم رہیں۔سو واضح رہے کہ جناب شیخ صاحب ایسے ہی احباب میں شمار ہوتے تھے۔چنانچہ ہم یہ مرقوم پاتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی سے منشی فرزند علی صاحب اور شیخ محمد تیمور صاحب ایم۔اے درس قرآن پڑھتے ہیں ( بدر جلد نمبر ۳ صفحه و زیر مدینہ اسی ، پرچه ۷ ارنومبر ۱۹۱۰ء) نیز بوجہ اعزاز آپ کے متعلق مرقوم ہے " شیخ تیمور صاحب بھی یہیں تشریف رکھتے تھے شیخ صاحب کا حضرت خلیفتہ المسیح اول سے بہت تعلق تھا۔مکرم مولا نا مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے مجھ سے ذکر فر مایا تھا کہ خلافت اولی میں ایک دفعہ ہمیں ہندوستان میں دورہ پر بھیجا گیا تو امیر وفد شیخ صاحب موصوف مقرر ہوئے تھے۔-٣ ۲۵۲ ۲۵۱ ۲ نواب صاحب کے مکتوب بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ صاحب ( مکتوب الیہ ) کی موجودگی میں یا ان کی آمد سے قبل حضرت خلیفہ مسیح اول نے ۴ / مارچ ۱۹۱۴ ء کو آخری وصیت رقم فرمائی تھی۔اور ہمیں الفضل سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ محمد تیمور صاحب اس ہفتہ قادیان آئے تھے۔- لاہور میں مخالفین خلافت کی طرف سے ۲۴ مارچ ۱۹۱۴ ء کو جلسہ شوری منعقد کیا گیا۔اس میں چار تاریں سنائی گئیں۔جن میں سے دو شیخ محمد تیمور صاحب کی طرف سے تھیں ( الفضل جلدا خاص نمبر۔پر چہ ۲۸ مارچ ۱۹۱۴ء صفحه ۲) گویا کہ امر خلافت کو شیخ صاحب کے نزدیک اتنی اہمیت تھی کہ انہوں نے اس کی مخالفت میں لا ہور دو تاریں روانہ کیں اور نواب صاحب کے مکتوب میں بھی قادیان میں مکتوب الیہ کی طرف سے دو تاریں موصول ہونے کا ذکر ہے۔۴۔راقم کے استفسار پر شیخ محمد تیمور صاحب کی طرف سے دو خطوط موصول ہوئے جن میں انہوں نے تحریر کیا ہے کہ چالیس سال قبل کے واقعات یاد نہیں رہے انتخاب خلافت ثانیہ کے وقت میں قادیان میں نہیں تھا مجھے