اصحاب احمد (جلد 2) — Page 292
292 ہی بڑھ گیا ہے اس میں ایک وہ مبارک انسان ہے جس کے ہاں حضرت مسیح موعود کا علاوہ روحانی تعلق کے خونی رشتہ کا بھی تعلق ہے اسے دامادی کا فخر حاصل ہے اور اس نبی سے تعلق ہے جو جری اللہ فی حلل الا بنیاء ہے اور جسکی پیشگوئی کئی انبیاء کرتے آئے ہیں اور جسکی صداقت کو آسمان اور زمین کے جلالی اور جمالی رنگ کے آیات اور مختلف حالات کے واقعات اور انقلابات بڑے زور سے ظاہر کر رہے ہیں اور جو کہتا ہے کہ آسمان اور زمین میرے لئے نئے بنائے جائینگے۔آپ نے تمثیلی انکشاف کے ذریعہ ایسا ہی دیکھا اس کے مطابق اب جو تغیرات دنیا میں ہونگے ان کا بہت بڑا موجب حضرت مسیح موعود کا وجود اور ظہور ہی ہے آپ کا الہام لو لاک لما خلقت الافلاک ہے اگر آپ نہ ہوتے تو یہ جو ذرات عالم کی موجودہ رفتار اور گردش ہے یہ بھی نہ ہوتی۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تو نہ ہوتا تو یہ بھی نہ ہوتے یہ دنیا کی رفتار اور طرز تیری ہی نصرت اور تائید کے لئے ہے۔اب بتلاؤ کہ ایسے عظیم الشان انسان کا ایسا لخت جگر اور خونی رشتہ جو صرف مبارک احمد کے رنگ میں ہی نہیں بلکہ بجائے خود بھی ایک عظیم الشان نشان ہے۔جس انسان کے ساتھ ہوگا وہ کتنا خوش نصیب ہوگا۔وہ تو اگر اس نعمت کے بدلے تمام عمر سجدہ شکر میں پڑار ہے تو بھی میرے خیال میں شکر ادا نہیں کرسکتا۔اور نعمتوں اور انعاموں کو جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ کسی کومیں ان کو جانے دو صرف یہی ایک عظیم الشان نعمت اور فضل کیا کم ہے کہ حضرت مسیح موعود کو ایک دفعہ دیکھنے اور آپ کے چہرہ مبارک پر نظر ڈالنے کا موقعہ مل گیا اور اگر کوئی ساری عمر اسی نعمت کا شکر یہ ادا کرنا چاہئے تو نہیں کر سکتا۔پھر ہم سے کب شکر یہ ادا ہو سکتا ہے جنہوں نے آپ کو بار بار دیکھا اور مدتوں آپ کی صحبتوں اور مجلسوں سے حظ اٹھایا ایک تو یہ ہم میں اور ایک اور ہیں جن کو اس سے بہت بڑی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ایں سعادت بزور بازو نیست نه بخشد خدائے بخشنده ی محض خدا تعالے کے فضل کے نیچے حاصل ہوئی ہے۔ذالک فضل الله يو تيه من يشاء یہ خدا کی عظیم الشان نعمت اور رحمت ہے اور ان کو نصیب ہوئی جن کو خدا تعالیٰ نے حجتہ اللہ فرمایا اس سے میری مراد حضرت نواب ہیں۔حضرت مسیح موعود کی ایک بیٹی جس کے گھر جائے اس کو کس قد رسعادت ہے لیکن بتاؤ اس کی سعادت کا کس طرح اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس کی طرف حضرت مسیح موعود کی دوسری بیٹی بھی خدا تعالیٰ کا فضل لے جائے اگر ہزار ہا سلطنتیں اور بادشاہتیں بھی حضرت نواب صاحب کے پاس ہوتیں اور انہیں آپ قربان کر کے حضرت مسیح موعود کا دیدار کرنا چاہتے تو ارزاں اور بہت ارزاں تھا لیکن اب تو انہیں خدا تعالیٰ کا بہت ہی شکر کرنا چاہئے کہ انہیں خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نبی کی بیٹی مل گئی ہے۔اور دوسری بیٹی بھی ان ہی کے صاحبزادہ کے نکاح میں آئی ہے۔نکاح پندرہ ہزار روپیہ مہر پر محمد عبد اللہ خان صاحب سے ہوا۔