اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page xxx of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxx

۱۸ تھے۔نہ معلوم لوگوں نے کس حد تک ان ریکارڈوں کو محفوظ کیا ہے مگر بہر حال خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشانات کے وہ چشم دید گواہ تھے ان ہزاروں نشانات کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ اور آپ کی زبان اور آپ کے کان اور آپ کے پاؤں وغیرہ کے ذریعہ ظاہر ہوئے۔تم صرف وہ نشانات پڑھتے ہو جو الہامات پورے ہوکر نشان قرار پائے مگر ان نشانوں سے ہزاروں گنے زیادہ وہ نشانات ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی زبان۔ناک کان ہاتھ اور پاؤں پر جاری کرتا ہے اور ساتھ رہنے والے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ خدا کے نشانات ظاہر ہورہے ہیں وہ انہیں اتفاق قرار نہیں دیتے کیونکہ وہ نشانات ایسے حالات میں ظاہر ہوتے ہیں جو بالکل مخالف ہوتے ہیں اور جن میں ان باتوں کا پورا ہونا بہت بڑا نشان ہوتا ہے۔پس ایک ایک صحابی جو فوت ہوتا ہے وہ ہمارے ریکارڈ کا ایک رجسٹر ہوتا ہے جسے ہم زمین میں دفن کر دیتے ہیں اگر ہم نے ان رجسٹروں کی نقلیں کرلی ہیں تو یہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے اور اگر ہم نے ان کی نقلیں نہیں کیں تو یہ ہماری بدقسمتی کی علامت ہے۔بہر حال ان لوگوں کی قدر کرو۔ان کے نقش قدم پر چلو اور اس بات کو اچھی طرح یا درکھو کہ فلسفیانہ ایمان انسان کے کسی کام نہیں آتا وہی ایمان کام آ سکتا ہے جو مشاہدہ پرمبنی ہو اور مشاہدہ بغیر عشق نہیں ہوسکتا جو شخص کہتا ہے کہ بغیر مشاہدہ کے اسے محبت کامل حاصل ہو گئی ہے وہ جھوٹا ہے مشاہدہ ہی ہے جو انسان کو عشق کے رنگ میں رنگین کرتا ہے اور اگر کسی کو یہ بات حاصل نہیں تو وہ سمجھ لے کہ فلسفہ انسانوں کو محبت کے رنگ میں رنگین نہیں کرسکتا۔فلسفہ صرف دُوئی پیدا کرتا ہے۔“ اسی طرح حضور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اگر نبی کے زمانہ میں لوگ خصوصیت سے عزتیں اور رتبے حاصل کرتے ہیں تو اس کی وجہ ہوتی ہے کہ ان کو دوسرے لوگوں سے زیادہ قربانیاں کرنے کا موقع ملتا ہے ور نہ خدا لحاظ دار نہیں۔۔۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی قربانیوں کو ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا تھا کہ جس سے زیادہ انسان کے وہم وگمان میں بھی نہیں آتا۔بھلا ان باتوں کا خیال بھی تو کرو اور اندازہ لگاؤ ان قربانیوں کا جو ان لوگوں نے کیں۔ہمارے ہاں اگر کسی کو پانچ بجنے کے بعد کسی دن دفتر میں ایک آدھ گھنٹہ کام کرنا پڑے تو گھبرا جاتا