اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 214 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 214

214 یہ کشف اور الہام گونا گوں طریق پر پورے ہوئے مثلاً آتھم کی پیشگوئی پر نواب صاحب کو تذبذب ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور آپ کو اس گروہ میں شامل فرمایا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کا مصداق تھا جس کا ذکر ہم تین سو تیرہ صحابہ کے تعلق میں گذشتہ اوارق میں کر چکے ہیں اور یہ فضیلت نہ ایک بار بلکہ دوبار آپ کو حاصل ہوئی۔سلسلہ کی مالی خدمات کا خوب موقعہ ملا۔اور باوجود نوابی شان کے اس وقت کی قادیان جیسی بستی میں آپ ہجرت کر آئے جب کہ والی مالیر کوٹلہ و دیگر ا قارب آپ کو واپس بلا کر آنکھوں پر بٹھلانے کے لئے تیار تھے۔آپ کو مدرسہ تعلیم الاسلام کے ڈائر یکٹر کے طور پر خدمت سلسلہ کا موقعہ ملا۔خلافت ادلی وثانیہ میں مخالفین خلافت کے خلاف اہم پارٹ ادا کرنے اور ملکانہ کی شدھی کے ایام میں اس علاقہ میں دورہ کرنے اور حضرت خلیفتہ اسیح اول کی مرض الموت میں خدمت کی توفیق ملی وغیرہ ان سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فِی بَيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ ( سورة النور ) کا اس رنگ میں مصداق بنایا کہ جو بے نظیر ہے اور اس فضیلت سے ابدی طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کو نواز دیا ہے و ذلك فضل الله يـوتـيـه من يشاء والله ذو الفضل العظيم۔میری مراد یہ ہے کہ موعود اقوام عالم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کی تیرہ سو سال بلکہ ہزار ہا سال سے انتظار تھی اور جن کا علوشان گو قارئین کرام سے مخفی نہیں لیکن پھر بھی جیسا کہ حضور نے ایک مکتوب میں نواب صاحب کو تحریر فرمایا تھا ، ہم پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں اور مرور زمانہ سے حضور کی شان اور علوم مرتبت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوتی جائے گی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "لولاک لما خلقت الافلاک “ اور یہ کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے اور جسے پاک اور مطہر اولا دوئے جانے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ن يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَهُ لَهُ کے الفاظ میں پیشگوئی فرمائی تھی حضور کو انـت مـنـى بـمـنـزلة توحيدى و تَفْرِيدِى جرى الله في حلل الا نبیاء ليحمدك الله من عرشه الارض والسماء ۱۵۴ 66 وو ۱۵۳ ۱۵۵ ۱۵۶ 66 ۱۵۲ 109 معک کما هو معی آسمان پر سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا اور جس سے تو بہت پیار کرتا ہے میں اس سے بہت پیار کرونگا اور جس سے تو ناراض ہے میں اس سے ناراض ہونگا کے خطابات سے نواز گیا۔سواللہ تعالیٰ نے نواب صاحب کو اس فضیلت سے مشرف فرمایا کہ آپ کی بڑی بیٹی حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے عقد میں آکر حضور کی صاحبزادی بن گئیں۔اس کا مفصل ذکر آگے آتا ہے پھر اس نبی آخر الزماں کی بڑی صاحبزادی آپ کے عقد میں آئیں اور آپ نے حضور پر اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ افضال میں سے حصہ وافر پا یا وہ افضال اشکر نعمتی رئیت خديجتي اور الحمد لله الذي جعل لكم الصهر ولنسب “۔سے ظاہر ہے۔سیدہ نواب مبارکہ صاحبہ کے متعلق بھی حضرت اقدس