اصحاب احمد (جلد 2) — Page 189
189 نے نہیں بتایا تھا کہ حضرت اقدس نے مرحومہ کا جنازہ غائب پڑھا تھا۔راقم کے استفسار پر حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تحریر فرمایا کہ مجھے اس جنازے کے پڑھے جانے کا علم نہیں۔در حقیقت ۱۸۹۸ء کا زمانہ ایسا ہے کہ اس میں خاموش اور احمدی اقارب کے زیر اثر اور ان میں ملے جلے اور ان میں گھرے ہوئے اور مصدق اقارب کے متعلق زیادہ بختی نہ تھی جیسا کہ اوائل میں غیر احمدیوں کی اقتداء میں نماز کی ادائیگی کے متعلق بھی سختی نہ تھی۔سو مر حومہ چونکہ ایک مخلص احمدی کی مصدق بیوی تھیں۔اس لئے حضرت اقدس نے جنازہ پڑھ دیا ہوگا۔چنانچہ مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں: حضرت اقدس نے ان کا جنازہ پڑھا تھا اور بیگم صاحبہ مرحومہ کے اس خیال کا اظہار ہو چکا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود کو سچا یقین کرتی ہیں اور یہ کہ زچگی کے بعد بیعت کرلیں گی انہوں نے بیعت کو ملتوی اسلئے کیا تھا کہ زچگی اور نفاس میں طہارت کامل نہیں ہوتی اور وہ بیعت کو اعلیٰ درجہ کی عبادت یقین کرتی تھیں اس لئے وہ در حقیقت مبائعہ ہی تھیں صرف مصدقہ نہ تھیں۔“ مرحومہ کی خوشی قسمتی دیکھئے کہ بعد میں آپ کے ایک صاحبزادہ حضرت اقدس کی فرزندی میں آئے جن کی اولاد کی شادیاں بھی حضور کے خاندان میں ہی ہو رہی ہیں غالبا یہ اس دعا کا اثر ہو جو حضور نے توجہ اور الحاح سے ان کی مغفرت کے لئے فرمائی چنانچہ حضور نے نواب صاحب کو تحریر فرمایا کہ انشاء اللہ آپ کی بیوی مرحومہ کے لئے توجہ اور الحاح سے دعائے مغفرت کرونگا“۔(مکتوب نمبر ۲۰) نیز مرحومہ کی وفات کی خبر موصول ہونے پر حضور نے جو تعزیتی مکتوب ارسال فرمایا اس میں مرحومہ کے غریق رحمت ہونے کے لئے دعا کی اور نواب صاحب کو استقامت کی تلقین فرمائی۔اس مکتوب سے ظاہر ہے کہ حضور بہت لطیف پیرایوں میں صبر جمیل کی تلقین فرماتے تھے ورنہ ایسے اندوہناک مواقع پر بسا اوقات بعض لوگ صبر کا دامن چھوڑ دھریت اور کفر کے عمیق گڑھوں میں گرتے اور ہمیشہ کے لئے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔مکتوب درج ذیل ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمۂ تعالیٰ تقیہ حاشیہ: - اہلیہ کی وفات پر حضرت اقدس کے تعزیتی مکتوب نمبر ۲۵ کی تاریخ ۸ نومبر طبع ہوئی ہے۔مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ در اصل ۱۸ نومبر ہے چھاپہ کی غلطی کی وجہ سے ۸ نومبر چھپ گئی ہے۔