اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 169 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 169

169 قرآن کریم کا دائیں جانب ہونا تمہارے لئے خوش قسمتی کی فال ہے اور یہ وہی کتاب ہے جو کہ دائیں جانب ہونی چاہئے اس سے یہ تفاول ہے کہ تمہارے دائیں ہاتھ میں ہو ( کرۂ ارض کی طرف اشارہ کر کے ) دوسری طرف یہ ہے جس پر زندگی چل رہی ہے۔کتاب اللہ میں بھی اس کی ترتیب اس طرح سے ہے کہ اول آسمان کا ذکر ہے تو پھر زمین کا موجودہ ضرورت کے لحاظ سے جس سے عرب کی نابود ہستی بود ہو کر نظر آئی وہ ذریعہ قرآن کریم ہے کہ جس سے اس کرہ پر ان کو حکمرانی حاصل ہوئی تھی اس وقت اس کے بڑے حصہ ایشیاء اور افریقہ اور یورپ ہی تھے جن کو مخلوق جانتی تھی اور اس قرآن کی بدولت ان معلوم حصص پر ان کی حکمرانی ہوئی مگر اس کے ساتھ ہی اصلی جڑ فضل الہی کا سائبان بھی ان پر تھا ور نہ قرآن تو وہی موجود ہے اور اس وقت اہل اسلام کی تعداد بھی اس وقت اضعاف مضاعفہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں پڑھے لکھوں کی تعداد ۱۳۵ سے زیادہ ہر گز نہ تھی۔خطرناک قوم کے مقابلہ پر سخت جنگ کی حالت میں ۳۱۳ سے زیادہ سپاہی نہ تھے۔غزوہ خندق میں چھ سو تھے اب باوجود اس کے اس وقت سے بہت بہت زیادہ تعداد موجود ہے مگر وہ بات نہیں ہے نہ وہ عزت نہ آبرو نہ اندرونی خوشی نہ بیرونی۔تو اس بات کی جڑ یہ ہے کہ اس زمانہ میں جس وقت فرمان نازل ہوا۔اس کی قدر کی گئی اس کو دستور العمل بنایا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل عرب جو اول کچھ نہ تھے پھر سب کچھ بن گئے۔قرآن شریف کے ابتدائی الفاظ میں لکھا ہے ذَالِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيْهِ نبی کریم نے اس کتاب کا ادب اس طرح سے کیا کہ آپ کے زمانہ میں سوائے قرآن کے اور کوئی کتاب نہ کھی گئی اس وقت بھی خوش قسمتی سے وہی کتاب موجود ہے اگر کوئی اور بھی اس وقت کی لکھی ہوئی ہوتی تو پھر یہ جوش نہ ہوتا۔یاخدا اور کوئی راہ کھول دیتا۔غرضیکہ اس کتاب کی عزت سے فضل الہی کا وہ سایہ قائم ہوا جیسے اس وقت تم لوگ آسائش سے بیٹھے ہو سائبان تم پر ہے دھوپ کی تپش سے محفوظ ہو۔اس طرح وہ لوگ جو کہ جنگلوں میں اور دور دراز بلاد میں رہتے تھے وہ اس کے ذریعہ سے امن کی زندگی بسر کرنے لگے۔تمام ترقیوں عزت اور حقیقی خوشی کی جڑ یہ کتاب ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہم اس ( کرۂ ارض) پر حکمرانی کرتے ہیں اور اسی کے ذریعہ سے فضل الہی کا سایہ ہم پر پڑسکتا ہے۔یہ نہ خیال کرو کہ ایرانی سلطنت ایسی راحت میں ہے۔ہرگز نہیں جس قدر وہ اس کتاب سے دور ہے اسی قدر اس میں گند ہے۔مگر تم کو ان باتوں کا علم نہیں ہے بڑے بڑے لائق چالاک اور پھرتی سے بات کرنے والوں کے ساتھ نا چیزی کی حالت میں میرا مقابلہ ہوا ہے مگر اس قرآن کے ہتھیار سے جب میں نے ان سے بات کی ہے تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ نے لگ گئیں ایک انسان جو کہ بیماریوں میں مبتلا ہو بظاہر تم اسے خندہ اور خوش دیکھ سکتے ہومگر اندر سے دیکھ اسے ملامت کا نشانہ بنا رہے ہیں یا درکھو خوشی کا چشمہ قلب۔پھر عقل پھر حواس ہیں اس کے بعد جسم میں