اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 118 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 118

118 مندرجہ بالا تو میرے آنے اور جانے کی بابت ہے۔میں جناب کی شخصی رائے کی بڑی قدر کرتا اگر رَبُّ العالمین - مالک الملک - حتی وقیوم خدا کی طرف سے اس کے خلاف حکم نہ ہوتا۔اب جناب ہی غور فرمائیں میں اپنے مالک حقیقی کا حکم مانوں یا جناب کے ارشاد کی تعمیل کروں۔باقی رہا جناب کا تشریف لانا۔سو یہ میرے لئے موجب سعادت ہے۔ہمائے اوج سعادت بدام ما افتد گر ترا گذری بر مقام ما افتد مگر اگر میرے لے جانے کے لئے ہی آنا مقصود ہے تو جو کچھ میں نے عرض کیا وہی ہے اور ویسے جناب کے آنے میں میری اور آپ کی دونوں کی سعادت ہے۔خداوند تعالیٰ آپ کو بھی ہدایت عطا فرمائے اور جس طرح مجھ کو اس خدائے رحیم و کریم نے اپنے فضل اور کرم سے اور محض اپنی رحمانیت سے شرک سے نکال کر مجھ کو اس رسول ظل محمد صلعم جری اللہ فی حلل الانبیاء کے فرماں برداروں میں داخل کر دیا ہے آپ کو بھی داخل کرے۔میرے پیارے بزرگ بھائی میں یہاں خدا کے لئے آیا ہوں اور میری دوستی اور محبت بھی خدا ہی کے لئے ہے۔میں کوٹلہ سے الگ ہوں۔مگر کوٹلہ کی حالت زار سے مجھ کو سخت رنج ہوتا ہے۔خداوند تعالیٰ آپ کو ہماری ساری برادری اور تمام کوٹلہ والوں کو سمجھ عطا فرمائے کہ آپ سب صاحب اسلام کے پورے خادم بن جائیں اور ہم سب کا مرنا اور جینا محض اللہ ہی کے لئے ہو۔ہم خداوند تعالیٰ کے پورے فرماں بردار مسلم بن جائیں۔کاش آپ قرآن شریف پڑھے ہوئے ہوتے تو میں آپ کو دکھلاتا کہ قرآن شریف میں ایک مامور من اللہ کی تکذیب کرنا اور اس طرح علیحدہ رہنا خطرناک (ہے) چہ جائیکہ اس پاک وجود کو جو امت محمدیہ میں سوائے حضرت رسول کریم صلعم سب سے مرتبہ اور فضائل میں بڑھ کر ہو۔جس کے لئے حضرت رسول کریم صلعم نے وصیت کی ہو کہ اس کو میر اسلام کہنا افسوس صد افسوس کہ لوگ تبرہ کے عادی ہیں اس مقدس پر تبرہ کر کے گناہ میں مبتلا ہوتے اور حضرت (رسول) کریم کی وصیت کے خلاف کرتے ہیں۔میرے پیارے بزرگ ابھی وقت ہے دیکھو سنبھلو بڑا نازک زمانہ ہے یہ خدا کے دن ہیں۔خداوند تعالیٰ کا غضب نہایت جوش میں ہے۔اپنے آپ کو منعم علیہم میں بناؤ اور ضالین اور مغضوب علیہم سے بچاؤ یہ میری باتیں آپ کو معمولی اور شاید بُری معلوم ہوں۔مگر میں یہ سچی باتیں کہہ رہا ہوں جس میں آپ کا فائدہ ہے، آؤ اور اس امامِ برحق کے غلام بن جاؤ تا کہ نجات پا جاؤ۔کیونکہ یہ مرتبہ جو اس امام مرسل من اللہ کو ملا ہے حکماً عدلاً ہونا یہ آج تک امت محمدیہ