اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 117 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 117

117 آپ صاف آئینہ کو ایک صاف مکان میں رکھ دیں تھوڑے عرصہ کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اردگرد سے نا معلوم طور سے گرد آکر اس پر جم گئی ہے۔اور اگر چند ایام اس کو اسی طرح رکھا رہنے دیا جائے۔تو آخر کار اس کی حالت ایسی ہوگی کہ اس میں سے کوئی چہرہ نہ دیکھ سکے گا۔یہی حالت انسان کے قلب کی ہے اس پر بھی نامعلوم طور سے زنگ جمتی رہتی ہے۔پھر وہ نہایت مکدر ہو جاتا ہے۔اگر بہت ہی مدت گذر جائے تو پھر ایسی زنگ جمتی ہے کہ خَتَمَ الله عـلـى قلوبهم وعلى سمعهم كا مصداق بن جاتا ہے کہ پھر اس کا مینقل ہونا مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے پس جس طرح ہر ایک آئینہ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر ہر روز ہاتھ پھرتا رہے اسی طرح قلب کی بھی ہمیشہ صفائی ہوتی رہے تب وہ ٹھیک رہتا ہے۔ایمان کا معاملہ ایسا نازک ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص اعمال صالحہ کرتا ہے یہاں تک کہ بہشت اور اس میں ایک بالشت کا فرق رہ جاتا ہے پھر اس میں تغیر آتا ہے اور وہ برے کام شروع کرنے لگتا ہے آخر دوزخ میں پڑتا ہے اسی طرح ایک شخص نہایت برے کام کرتا ہے۔یہاں تک کہ دوزخ اور اس میں ایک بالشت کا فرق رہ جاتا ہے اور وہ پھر اچھے کام کرنے لگتا ہے اور بہشت میں داخل ہوتا ہے ) نتیجہ اس کا یہ ہے کہ تمام کاموں کا اعتبار خاتمہ پر ہے پس جس شخص کا خاتمہ بخیر ہوا، اس نے سب کچھ پایا قرآن شریف میں آیا ہے کہ ما خلقت الجن والانس الا ليعبدون پس جب ہمارا مقصو دخلقت عبادت ہے اس سے ہم کس طرح الگ ہو سکتے ہیں اور اس مقصود اصلی کو ہم بلا ایک ہادی برحق کے ہرگز نہیں پاسکتے اور اعتقادات صحیحہ اور اعمال صالحہ بلا ہدایت ہادی ہرگز میسر نہیں ہو سکتے وہ توحید جو اسلام نے قائم کی ہے تمام معبودینِ باطلہ سے نکال کر انسان کو ایک خدا کی حکومت میں داخل کیا اور سوائے اس خدا کے جورب العالمين الرحمن الرحیم مالک یوم الدین ہے کسی معبود کی پرستش جائز نہیں رکھی کس طرح قائم ہوتی اگر حضرت رسول کریم محمد مصطفے صل اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوتے اسی طرح اس سے قبل انبیاء کے ذریعے سے ہدایت نہ آتی ؟ پس انسان کے لئے ایک ہادی اور نمونہ کی ضرورت ( ہے) جس کی ہدایت پر وہ عمل کرے اور جس کے نمونہ کو دیکھ کر وہ اس کی پیروی کرے۔چنانچہ حضرت رسول کریم صلعم نے اعتقادات صحیحہ کو بتلایا اور اعمال صالحہ کو کر کے دکھلایا تا کہ اس طرح پر کریں اس لئے ضروری ہے کہ ہادی کی صحبت میں انسان رہے تا کہ اعتقاد اور اعمال کی اصلاح ہوتی رہے۔اور اس کا آئینہ دل ہمیشہ گردو غبار گناہ سے پاک وصاف رہے۔چونکہ جیسا میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ جس مسیح موعود اور امام آخر زماں مہدی معہود کی تمام دنیا منتظر تھی۔جب کہ ہم نے اس کو پالیا تو کس طرح ہم اس کے قدموں سے علیحدہ ہو سکتے ہیں؟ اب تو ہماری دعا یہی ہے کہ اسی بابرکت آستانہ پر ہمارا خاتمہ بخیر ہو۔آمین ثم آمین میں اپنی بڑی خوش قسمتی سمجھتا ہوں خداوند تعالیٰ نے مجھے اس سعادت کے حاصل کرنے کا موقعہ دیا اور میں ان لوگوں کی بڑی بد قسمتی سمجھتا ہوں جو اس آستانہ مبارکہ سے الگ ہیں۔