اصحاب احمد (جلد 2) — Page 698
698 میں اس کا اجر دیا اور پھر مسلسل تیں سال سے حضرت عرفانی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ان کے خاندان کے لئے بطور محافظ حقوق مقرر فرمایا۔حضرت ممدوح کے پیش نظر بھی نواب صاحب موصوف کی براہین احمدیہ والی خدمت ہی رہتی ہے۔حضرت موصوف کے کام سے یہ خاندان بہت خوش ہے۔اور بظاہر کبھی بھی وہ جدا کرنا پسند نہیں کرتے۔سید غلام محمد خان صاحب نے اقبال نامہ صرف نواب صاحب کے مفصل سوانح پر تصنیف کی ہے۔اور گنجینۂ آصفیہ میں بھی مصنف موصوف نے نواب صاحب کے سوانح درج کئے ہیں۔ب ضلع بلند شہر کے جس رئیس کا حضور نے ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے ایک سورو پیہ براہین احمدیہ کے لئے بھیجا لیکن اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے۔خاکسار کے نزدیک یہ رئیس نواب محمود علی خاں صاحب بہادر رئیس چھتاری ضلع بلند شہر تھے۔اس کا علم رسالہ اشاعۃ السنہ سے ہوتا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بعض رؤساء اسلام کی طرف مراجعت کی حضرت اقدس کو تحریک کی تھی جن میں نواب صاحب ممدوح کا نام بھی ہے۔اور لٹریچر سے ان میں سے کئی ایک کو حضرت اقدس کی طرف سے تحریک کئے جانے کا علم ہوتا ہے۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب اشاعۃ السنہ جلد ۲ نمبر نہم و دہم بابت ستمبر اکتو بر ۱۸۸۰ء میں صفحہ ۳ پر تحریر کرتے ہیں: م - براہین احمدیہ کی معاونت کی نسبت ہم نمبر سابق میں بہت کچھ تر غیب دے چکے ہیں جس سے مسلمانان حامیان اسلام کے متاثر ہونے کی قوی امید ہے۔اب ہم اس کتاب کے مؤلف مرزا غلام احمد صاحب کو ایک تدبیر فرا ہمی چندہ یا قیمت کتاب پر آگاہ کرتے ہیں وہ یہ کہ مرزا صاحب اس باب میں ان اعیان ورؤساء اسلام کی طرف مراجعت کریں جن میں اکثر ایسے اہل وسعت ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی صاحب توجہ کریں تو صرف اپنی ہمت سے بلا شر کت غیر کتاب کو چھپوا سکتے ہیں۔آگے اس تدبیر کا کارگر ہونا خدا کے اختیار ہے۔جس کی عظمت شان ہے۔اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطى لما منعت حكايیت ہے۔آں حضرات کے نام نامی یہ ہیں : ا نواب والا جاہ امیر الملک مولوی سید محمد صدیق حسن خان صاحب بہادرا میر ریاست بھوپال۔۲ نواب محمود علی خان صاحب بہادر رئیس چھتاری ضلع بلند شہر۔نواب محمد ابراہیم علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ۔-