اصحاب احمد (جلد 2) — Page 686
686 ہونے نہ دیں۔میں تعزیت کے لئے آپ کے پاس آتا مگر میری بیوی کی ایسی حالت ہے کہ بعض وقت خطر ناک حالت ہو جاتی ہے۔“ ۱ - ۲۹ جنوری ۱۹۰۰ء کو تحریر فرماتے ہیں: -17 وو ۴۹۸ عنایت نامہ مجھ کو ملا۔اور اول سے آخر تک پڑھا گیا۔دل کو اس بہت درد پہنچا کہ ایک پہلو سے تکالیف اور ہموم و عموم جمع ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے مخلصی عطا فرما دے۔مجھ کو جہاں تک انسان کو خیال ہوسکتا ہے یہ خیال جوش ماررہا ہے کہ آپ کے لئے ایسی دعا کروں جس کے آثار ظاہر ہوں لیکن میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں اور حیران ہوں کہ باوجودیکہ میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور آپ کو ان مخلصین میں سے سمجھتا ہوں جو صرف چھ سات آدمی ہیں۔پھر بھی ابھی تک مجھ کو ایسی دعا کا پورا موقعہ نہیں مل سکا۔دعا تو بہت کی گئی اور کرتا ہوں مگر ایک قسم دعا کی ہوتی ہے جو میرے اختیار میں نہیں۔غالبا کسی وقت کسی قدرظہور میں آئی ہوگی اور اس کا اثر یہ ہوا ہوگا کہ پوشیدہ آفات کو اللہ تعالی نے ٹال دیا۔لیکن میری دانست میں ابھی تک اکمل اور اتم طور پر ظہور میں نہیں آئی۔مرزا خدا بخش صاحب کا اس جگہ ہونا بھی بہت یاددہانی کا موجب ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ کسی وقت کوئی ایسی گھڑی آجائے گی کہ یہ مدعا کامل طور پر ظہور میں آجائے گا۔۱۷- ایک مکتوب میں حضور تحریر فرماتے ہیں : ۴۹۹ آپ کا عنایت نامہ مع دوسرے خط کے جو آپ کے گھر کے لوگوں کی طرف سے تھا جس میں صحت کی نسبت لکھا ہوا تھا پہنچا۔بعد پڑھنے کے دعا کی گئی۔اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں ہر ایک بلا سے محفوظ رکھے۔۱۸- ۷ اگست ۱۹۰۰ء کو حضور تحریر فرماتے ہیں: " آپ کا تحفہ پار چات نفیس و عمدہ جو آپ نے نہایت درجہ کی محبت اور اخلاص سے عطا فرمائے تھے مجھے کومل گئے ہیں اس کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔ہر ایک پارچہ کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آں محب نے بڑی محنت اور اخلاص سے ان کو تیار کرایا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اپنے بے انتہا اور نہ معلوم کرم اور فضل آپ پر کرے اور لباس التقویٰ