اصحاب احمد (جلد 2) — Page 669
669 کرے گا ہر طرح کے تکلف اور مبالغہ سے بہر نوع بالا ہوں گے۔چنانچہ آپ اس سفر کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔گیارہ بجے بٹالہ پہنچے فور آرتھ میں سوار ہو کر قادیان کو روانہ ہوئے رتھ کے ہچکولے کھاتے گرد پھانکتے روانہ ہوئے قادیان پہنچے۔آرزو دارم که خاک آں قدم طوطیائے چشم سازم دم بدم کتنے اخلاص سے پُر اعلی درجہ کے جذبات ہیں۔آپ کے یہ الفاظ آپ کی سیرۃ کا بہترین اور روشن ترین پہلو ظاہر کرتے ہیں۔اور ان الفاظ کی شان اور بھی بلند ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جذبات وقتی کیفیت کا عکس نہیں تھے بلکہ اعماق قلب میں گڑے ہوئے خلوص کا اظہار تھے کیونکہ حضرت نواب صاحب کی ہر حرکت وسکوں آپ کے ان جذبات و خیالات کی عملی تفسیر تھی۔حضرت نواب صاحب حضرت اقدس کی نظر میں حضرت اقدس نے نواب صاحب کو اپنی فرزندی میں لے لیا اور ایک مبشرہ صاحبزادی آپ کے عقد میں دے دی اور اپنے ایک مبشر صاحبزادہ کا عقد نواب صاحب کے ہاں کر کے ان کی صاحبزادی کو اپنی بیٹی بنا لیا۔اس سے ہی ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کی نظر میں حضرت نواب صاحب کیا تھے اخلاص پہلے تھا اور یہ ظاہری قرابت کے تعلقات بعد میں ہوئے اس لئے اس سے قبل حضرت اقدس کی طرف سے جو کچھ اظہار ہوتا رہا پیش کرتا ہوں : حضور ۱۳ / فروری ۱۸۹۱ء کو حضرت مولوی نورالدین صاحب کوتحریر فرماتے ہیں: چند روز سے نواب محمد علی خاں صاحب رئیس کو ٹلہ قادیان میں آئے ہوئے ہیں۔جوان ، صالح الخیال، مستقل آدمی ہے۔۔۔میرے رسالوں کو دیکھنے سے کچھ شک و شبہ نہیں کیا بلکہ قوت ایمانی میں ترقی کی حالانکہ وہ دراصل شیعہ مذہب ہیں مگر شیعوں کے تمام فضول اور نا جائز اقوال سے دست بردار ہو گئے ہیں۔صحابہ کی نسبت اعتقاد نیک رکھتے ہیں۔۔۔الحمد اللہ اس شخص کو خوب مستقل پایا اور دلیر طبع آدمی ہے۔۴۶۸