اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 646 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 646

646 بوقت سحرگاہ ۷ / جولائی ۱۹۲۲ء کو رویا میں اس عاجز نے جناب کو دیکھا کہ چہرہ جناب کا نہایت ہشاش بشاش ہے معمولی ہشاشت و بشاشت سے بہت زیادہ ایک چھوٹی سی جماعت کو جناب نے کسی کام پر مامور فرمایا ہے ان کو جناب نے مخاطب کر کے فرمایا کہ بس میرا مقصد پورا ہو گیا۔وَجُوة يومئذٍ مسفرة۔ضاحكة مستبشرہ کا نظارہ جناب کے چہرہ سے مترشح ہور ہا تھا۔بیداری کے بعد نہایت خوشی میرے قلب پر تھی کہ پھر دوبارہ مجھے پر نیند غالب آگئی اور یہی آیہ کریمہ سورہ شریفہ عبس وتولی کی وجـوه يومئذ مسفره ضاحكة مستبشره جناب کی نسبت میری زبان پر جاری ہوئی اور میں نے خلف الرشید مگر می جناب عبداللہ خان صاحب کو سنا کر رویا میں کہا کہ یہ آیہ شریفہ جناب کے والد ماجد کے حق میں الہا نا میری زبان پر جاری ہوئی۔اور اس کے (بعد ) مجھے نیند سے بیداری ہو گئی معا تھوڑی دیر کے بعد پھر نیند غالب آگئی اور پھر سہ بارہ یہی آیہ شریفہ وجوه يومئذٍ مسفره ضاحكة مستبشرہ جناب کی نسبت میری زبان پر جاری ہوئی اور میں نے رویا میں ہی اپنی دختر کو جس کا نام زنیب ہے سنا کر کہا کہ یہ الہام جناب نواب صاحب کے حق میں میری زبان پر جاری ہوا ہے غرض کہ تین یا چار بار یہی نظارہ بوقت سحر آج شب جمعہ ۷ جولائی ۱۹۲۲ء کو رہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جو الہام رحمانی ہوتا ہے وہ صرف ایک بار پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ اس میں اکثر تکرار ہوتی ہے اس لئے اس رویا مبشرہ سے اس عاجز کو جو جناب کی نسبت ہے بہت خوشی ہوئی اور مناسب سمجھا کہ جناب کو اس بشارت کو سنا کہ خوش وقت کروں فلله الحمد والله الموفق والمسقم دعا گودعا کا طالب خاکسار احمد اللہ خان از قادیان۔دار الضعفاء۔جمعہ۔(المرقوم ) ۷ جولائی ۱۹۲۲ء ۱ اذی قعده ۱۳۴۰ هجری نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔مذکورہ بالا تمام رؤیا الہام حضرت نواب صاحب کے متعلق صلحاء کو الــمــومـن يــرى ويرى له کے ۴۴۵