اصحاب احمد (جلد 2) — Page 631
631 وہ کسی اور کو کب میسر آ سکتے ہیں پھر آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دامادی کا جو شرف حاصل ہوا اور حضور کے جگر گوشہ سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا مبارک وجود آپ کے کا شانہ کی رونق بنا۔یہ کتنا بڑا انعام ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری صاحبزادی سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نکاح آپ کے نہایت نیک اور پارسا صاحبزادہ مکرم خان محمد عبد اللہ خاں صاحب سے ہوا۔اور یہ خاتون مبارکہ بھی آپ ہی کے خاندان کی زنیت بنیں۔غرض خدا تعالیٰ نے حضرت نواب صاحب رضی اللہ عنہ پر جس قدر انعامات کئے وہ نہایت غیر معمولی اور بے مثال ہیں اور آج جبکہ آپ اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے خالق و مالک کے حضور پہنچ گئے ہیں ثابت ہو گیا کہ آپ ان غیر معمولی انعامات کے پورے پورے مستحق اور اہل تھے آپ دسمبر ۱۹۰۱ء میں ہجرت کر کے قادیان تشریف لائے اور پھر صبر۔استقلال۔فدا کاری اور جان شاری کی یہ مثال قائم کی کہ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور اپنے مال کا بہت بڑا حصہ خدا تعالیٰ کے لئے اس کی مخلوق کی ہدایت اور اس کی پرورش کے لئے خرچ کر دیا حتی کہ آخری سانس تک اسی پاک سرزمین میں لیا جہاں خدا تعالی کی خاطر شاہانہ شان وشوکت چھوڑ کر انہوں نے دھونی رمائی تھی جس طرح آپ کی جوانی قابل رشک تھی جس طرح آپ کی آخری وقت تک کی زندگی قابلِ رشک تھی۔اس سے بھی بڑھ کر آپ کا انجام قابل رشک ہے خدا تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو اپنے قرب میں خاص مقام عطا کرے یہ آخری تحفہ ہے جو ہم پیش کر سکتے ہیں اور انا للہ وانا الیہ راجعون کا بھایا اپنے قلوب پر رکھ کر امید رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کے جن گرانقد رو جو دوں کو اپنی مصلحت کے ماتحت اپنے پاس بلا رہا ہے ان کے قدموں پر چلنے والے اور وجو د عطا کرے گا۔“ الطارق میں ذکر خیر ۴۳۵ قادیان سے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے شائع ہونے والے الطارق ٹریکٹ نمبر ۳ بابت ۲۰ تبلیغ ۱۳۲۴ھش میں اس کے متہم اشاعت مکرم ملک عطاء الرحمن صاحب معتمد ( حال مجاہد فرانس ) نے بہ عنوان مکرم و محترم حضرت حجۃ اللہ نواب محمد علی خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات حسرت اثرات تحریر کیا کہ : مسلسلہ کے قابل صدا احترام وجود نفسِ مطمئنہ کے ربانی شاہکار۔خدا کی ابدی اور دائمی رضا کی گود میں اما تبلیغ ۱۳۲۴ ھ کو لے لئے گئے اور ل أُضِيَّةً مَرْضِيَّة اس کے عباد میں داخل ہو گئے۔اس کی جنت میں داخل ہو گئے۔دارا السلام میں داخل ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔شمع نبوت کا یہ پروانہ، اطمینان نفس کا مجسمہ ، ایثار و استقلال کی زندہ مثال، دنیوی عظمت و شوکت سے